https://www.mobiletodayfrp.com/2025/12/prime-tool-latest-version.html?m=1
ایران قطر اعلیٰ رابطہ: صدر مسعود پزشکیان کا امیرِ قطر سے دوٹوک پیغام
ایران قطر اعلیٰ رابطہ: صدر مسعود پزشکیان کا امیرِ قطر سے دوٹوک پیغام
تاریخ: 24 جون 2025
ایران کوئی غزہ، لبنان یا شام نہیں" ایرانی صدر کا دوٹوک مؤقف
ایران کی قطر کو وضاحت: "ہمارا ہدف آپ نہیں تھے
قطر کا جواب: "ہم ایران کے خلاف امریکی اڈے استعمال نہیں ہونے دیں گے
کیا خطے میں نئی سفارتی فضا قائم ہو رہی ہے؟
اختتامیہ
"کیا ایران ایٹمی طاقت بن چکا ہے؟ حقیقت یا پروپیگنڈا"
ایک جائزہ ان میڈیا رپورٹس پر جو دنیا کو چونکا رہی ہیں
حال ہی میں بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے خفیہ طور پر ایٹمی دھماکہ کر کے خود کو نیوکلیئر پاور کے طور پر منوا لیا ہے۔ ان دعووں کے مطابق ایران نہ صرف **دنیا کا دسواں بلکہ دنیائے اسلام کا دوسرا ایٹمی ملک بن چکا ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ عالمی سیاست، مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا کے توازن کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہیں۔
ان رپورٹس کا ماخذ اور پس منظر
یہ رپورٹس بعض غیر تصدیق شدہ ذرائع، علاقائی میڈیا اور سوشل میڈیا کے توسط سے منظر عام پر آئیں، جن میں یہ کہا گیا کہ ایران نے کامیابی سے **زیر زمین ایٹمی تجربہ** کیا ہے، اور دنیا کی نظروں سے بچ کر ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
تاہم بین الاقوامی ادارے جیسے کہ:
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنس
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل
امریکی و یورپی انٹیلی جنس ایجنسیاں
کسی نے بھی ابھی تک ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی۔
ایران کا نیوکلیئر پروگرام: حقیقت کیا ہے؟
ایران گذشتہ دو دہائیوں سے نیوکلیئر توانائی پر کام کر رہا ہے۔ اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام **پرامن مقاصد (مثلاً بجلی پیدا کرنا، طبی تحقیق) کے لیے ہے، لیکن مغرب میں کئی حلقے اس دعوے پر شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
2024 اور 2025 میں ایران نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی، جو کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے خطرناک حد کے قریب ہے۔ بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ایران اگر چاہے، تو چھ ماہ سے ایک سال میں ایٹمی ہتھیار تیار کر سکتا ہے، لیکن اب تک کوئی کھلا دھماکہ یا حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
ایران کی سرکاری پوزیشن
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک اسلامی فتویٰ جاری کیا ہے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا، بلکہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔
اگر ایران واقعی ایٹمی طاقت بن چکا ہو؟
اگر مذکورہ رپورٹس سچ ثابت ہو جائیں، تو:
ایران دنیائے اسلام کا دوسرا ایٹمی ملک (پاکستان کے بعد) بن جائے گا۔
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل جائے گا۔
اسرائیل، سعودی عرب، اور امریکہ کی ایران پالیسی میں بڑی تبدیلی آئے گی۔
یہ مسلم دنیا کے لیے ایک سیاسی و دفاعی سنگ میل تصور ہو سکتا ہے۔
مگر ابھی حقیقت کیا ہے؟
ابھی تک کوئی ثبوت یا عالمی ادارے کی تصدیق ایسی رپورٹس کی تائید نہیں کرتی۔ اگرچہ ایران ایٹمی دہانے پر ضرور کھڑا ہے، مگر ابھی وہ سرکاری طور پر یا سائنسی طور پر "نیوکلیئر پاور" تسلیم نہیں کیا گیا۔
نتیجہ: جذبات اور زمینی حقائق میں فرق رکھنا ہوگا
ایران کی ایٹمی پیش رفت یقینی طور پر تیز ہو رہی ہے، اور وہ "بریک آؤٹ کیپیسٹی" تک پہنچ چکا ہے، مگر ایٹمی طاقت کہلانے کے لیے صرف تکنیکی صلاحیت نہیں بلکہ کھلا تجربہ، عالمی قبولیت اور حکمتِ عملی کی شفافیت بھی ضروری ہے۔
اگر مسلم دنیا کو واقعی طاقتور بننا ہے، تو صرف ایٹمی ہتھیاروں پر نہیں، بلکہ علم، اتحاد، معیشت، اور ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
"کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایران واقعی ایٹمی طاقت بن چکا ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں دیں!"
"اگر آپ کو یہ معلوماتی لگا تو اسے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔"
پاراچنار کا اظہارِ یکجہتی: ایران سے محبت، اسرائیل سے بیزاری
پاراچنار: سرزمینِ شہداء سے ایران سے یکجہتی اور اسرائیل سے بیزاری کا بھرپور اظہار
پاراچنار سرزمینِ شہداء، استقامت اور مزاحمت کا استعارہ ایک بار پھر امتِ مسلمہ کی صفِ اول میں نظر آیا۔ اس جمعہ کو نماز کے بعد ہزاروں نوجوانانِ پاراچنار نے اپنے محبوب ملک اسلامی جمہوریہ ایران سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور بیزاری کا اظہار کیا۔
پاراچنار کے غیور عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اپنی سرزمین کے محافظ ہیں بلکہ عالمی اسلامی برادری کے حق میں بھی اپنی آواز بلند کرنے میں ہمیشہ پیش پیش ہیں۔
ایران یعنی ہماری جان
شرکاء نے بھرپور جذبے کے ساتھ نعرے بلند کیے:
"ایران یعنی ہماری جان، ہماری شیعیانِ علیؑ کی پہچان"
یہ الفاظ نہ صرف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ایک تاریخی و مذہبی رشتے کی گہرائی کو بھی بیان کرتے ہیں۔ ایران، جس نے ہمیشہ عالمی استعمار اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی، آج بھی امت مسلمہ کے دلوں میں بس رہا ہے۔
اسرائیل سے اظہارِ بیزاری
اس موقع پر شرکاء نے فلسطین اور غزہ کے مظلوم عوام سے بھی بھرپور ہمدردی کا اظہار کیا۔ بینرز، پلے کارڈز، اور پرجوش نعرے بازی کے ذریعے اسرائیل کی مظالم پر شدید مذمت کی گئی۔ یہ اجتماع محض سیاسی اظہار نہیں بلکہ ایک اخلاقی و ایمانی فریضہ تھا۔
پاراچنار ہر لمحہ ایران کے ساتھ
پاراچنار کے باسیوں نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ:
"پاراچنار ہر لمحہ ایران کے ساتھ ہے۔"
یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک مزاحمتی سوچ، جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی علامت ہے۔ یہاں کے نوجوان دل سے اور عمل سے امت کی وحدت، اتحاد، اور خودداری کے پیغام کو عام کرتے ہیں۔
اختتامی پیغام
پاراچنار کا یہ اجتماع صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک پیغام تھا کہ
"جہاں کہیں بھی ظلم ہو، وہاں کے خلاف صدائے حق بلند کی جائے گی۔اور جہاں کہیں بھی مظلوم ہوں، پاراچنار ان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔
نیتن یاہو کا یوٹرن: ایران میں حکومت کی تبدیلی اب اسرائیل کا ہدف کیوں نہیں؟
سر درد کا دیسی اعلاج مختلف اقدامات پر مبنی ہوتا ہے
سر درد کا دیسی اعلاج مختلف اقدامات پر مبنی ہوتا ہے، لیکن میں یہاں عام طور پر
ایک چند ہوم ٹریٹمنٹس بتا رہا ہوں جو آپ کو مدد فراہم کر سکتے ہیں
:پانی پیئیں
زیادہ سے زیادہ پانی پینا جسم کو ہائیڈریٹ کرتا ہے اور سر درد کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
:اچھی نیند
کمزور یا قلیل نیند سے بھی سر درد ہو سکتا ہے۔ رات میں 7-8 گھنٹے کی اچھی نیند لینے سے عام طور پر سر درد میں بہتری ہوتی ہے۔
:مناسب چشمکاری
لمبی عرصے تک چشمکاری کرنا یا غلط چشمکاری کرنا بھی سر درد کا باعث ہو سکتا ہے، اس لئے مناسب چشمکاری کا خیال رکھیں۔
:دھاتوں کی کمی کو پورا کریں
کمی کی سب سے بڑی وجہوں میں سے ایک ہے کمزوری یا کمی کی وجہ سے ہونے والا سر درد۔ زیادہ مقدار میں ہڈروجن، میگنیشیم، اور وٹامن ب کو خوراک میں شامل کریں۔
:خنک پڑارتیں
سر درد کے وقت ہیٹ پیک یا ٹھنڈا پیک استعمال کرنا بہتری کے لئے مددگار ہوتا ہے۔
:اچھا خوراک
صحیح غذائیں استعمال کرنا بھی اچھا ہوتا ہے۔ کافی مقدار میں فولاد، مگنیشیم، پوٹیشیم، اور وٹامن ب کو خوراک میں شامل کریں۔
:تھوڑی سی دھوپ لیں
روزانہ کچھ وقت کھلی ہوا میں ہونا بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
:جسم کی مساج
گردن اور کندھوں کو مساج کرنا سر درد میں راحتی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
:قدرتی چائے
زنجبیل چائے، پودینہ چائے یا کچھ لیموں کا رس استعمال کرنا بھی سر درد میں آرام فراہم
کرتا ہے۔
اگر آپ کا سر درد مستمر ہے یا بہت شدید ہے، تو چاہئے آپ ڈاکٹر سے مشورہ لیں تاکہ وہ مناسب علائم اور علاج کا تشخیص لگا سکیں۔
قصیده د بي بي فاطمة الزهرا (س) شاعر روشن علی بنگش
چې حاصل راته په برخه سعادت ستا د مدحت دے
چی دا مې ته ئې وسیله ځکه په ما د خدائے رحمت دے
تصور کښې مې تندے دے ستا درشل ته رسولے
راته دغه فقيري زياته له تخت د سلطنت دے
چې کوم چاوے ځورولې د نبي حديث موجود دے
په هغوې د خدائے عذاب دے په هغوی د خدائے لعنت دے
د رسول د خولې فرمان دے ته زما د ځان حصه ی
څوک چې ځان امتي بولي پرې واجب ستا محبت دے
تور مخونه به ولاړ وي په حساب د محشر ورځي
په دنیا کښې تاسره چې کوم چا کړئے عداوت دے
في لاريب هغه څوک به د جهنم په لمبو سوزي
کوم یو چا چې دلته تاته رسولي اذیت دے
که هر څومره توبه کار شي خپلو کړو باندې پښيمان شي ستا دښمن خو آخرت کښې هم محروم له شفاعت دے
د بابا جگر گوشه ی ته بتول ئ صديقه ئ
تل د صبر شکر کړے په خپل ژوند کښې په غربت دے
ستا احسان چې فراموش کړي مسلمان به بې وفا وي
دا اسلام چې نن قائم دے ستا د ذات په بدولت دے
ستا بابا روح الامین دے ستا خاوند امام مبین دے
اے بي بي خلد برین ستا د زامنو ملکیت دے
ستا د ذات په فضيلت خو گواهي د انما دے
لویه برخه ستا د ژوند خو په تقوي او تلاوت دے
بي ركوعه بې سجوده ستا په یاد کښې نمونځ ادا کړم
دستا ذکر ما د پاره لوئے ثواب د عبادت دے
حسنين چې په جهان کښې بې مثال او بې ثاني دي
ستا د مينې خاصیت دے ستا د غیږې تربیت دے
فاطمه چی اذيت كړي لکه ما چې اذيت کړي
زمانې نه د نبي د خولې تاکید او وصیت دے
د سائيل په جامه راشي جبرائیل هم د ستا درته
د ستا څومره لویه برخه د ستا څومره شان اوچت دے
تاسره می ټول نسبت دی ته مرکزی ته محوری
نبوت که ولایت دے که بې مثله امامت دے
په دانې دانې د ذكرئ مشغول واړه عالم دے
دا تسبیح په حقيقت کښې ائے بي بي د ستا سنت دے
که بابا د ستا قرآن دے پکښې ته سوره یٰسین ئ
اعتراف کښې ټول عالم د ترابده د عصمت دے
دین اسلام که نن موجود دے په سبب ستاد وجود دے
ستا گفتار او ستا کردار خو سرمایه د شریعت دے
تقدس او طهارت دې د قرآن کلام رڼا کښې
ستا صورت په حقیقت کښې د پاکوالي علامت دے
گنهکاریم روسیاه يم زه روشن دې امیدواریم
د کرم نظر خواستگاریم ستا اختیار کښې شفاعت دے
دہ شاعر روشن علی بنگش یو څو شعرونه
مورخہ 2011 شلوزان جنگ میں کوہ سفید پر عزاداری
ده شاعر روشن علی بنګش په زړه پورې شعرونه
مورخہ 2010 جنگ میں خیواص کا پسِ منظر
خیواص شلوزان تنگی میں شمال مغربی حصے میں واقع خوبصورت ، پر امن اور ایک دلکش بستی تھی۔ جہاں باقرخیل بنگش قبیلہ سینکڑوں سال سے آباد تھا۔ تقریبا 150 گھرانوں پر مشتمل یہ خوبصورت گاؤں لذیذ میوؤں اور باغات کیلئے مشہور تھا۔ یہاں میوے اس وقت پک جاتے جب ایجنسی میں میوؤں کا خاتمہ ہو جاتا۔ یہاں کے اخروٹ ، خرمانی ، آلوچے اور سیب نہایت لذیذ اور دیدہ زیب تھے۔
یہاں کے باشندے نہایت غریب اور سیدھے سادہ تھے۔ جلانے کی لکڑی کی فروخت اور ملیشیا میں ملازمت پر گزارہ کرتے تھے۔ یہاں بہت سے افراد زیر تعلیم سے آراستہ ہوئے تھے۔ اور سکولوں میں معلمین کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ خیواص چاروں طرف سے منگل قبیلے کی آبادی میں گھرا ہوا تھا۔ لیکن از قدیم الایام ان کے منگلوں سے اچھے تعلقات تھے۔ جب بھی شلوزان اور منگلوں کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوتا تو خیواص کے مشران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ، اور معاملے کوحل کر دیتے۔ 2007 ء یا نومبر 2008 ء کے فسادات میں یہ علاقہ اپنے بہتر تعلقات کی وجہ سے محفوظ رہا۔ لیکن یہاں کے غریب ، غیرتمند اور بہادر جوان دشمن کے مقابلے کیلئے ہمہ تن تیار تھے۔ خیواص کو کیوں جلایا گیا ؟ اور کیسے جلایا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ میں تو یہ لکھتے کوئی خوف محسوس نہیں کرونگا کہ یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ طالبانائزیشن کی ایجنسی میں گرفت مضبوط کی۔ تو شلوزان تنگی اور پیواڑ تنگی ان کے بڑے مرکز رہے۔ ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی خیواص تھا۔ جو ان کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا۔ اسی غرض سے کرم ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر نے شلوزان تنگی کا دورہ کرکے وہاں شب باش بھی ہوئے۔ اور حالات کا خود جائزہ لیا۔ اس واقعے کے کچھ سیاسی مقاصد بھی تھے۔ جو مختلف ممالک کے اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ نیٹ میں اور کربلائے پاراچنار کتاب میں موجود ہے میں اسکو یہاں اس لئے نہیں لکھوں گا پھر بہت لمبا ہو جائے گا۔ اگر کوئی اس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو کربلائے پاراچنار کتاب پڑھ لیں۔
سینکڑوں سال بعد خیواص جو امن کا گہوارہ تھا۔ اور جہاں کے غریب باشندے امن کی زندگی گزار رہے تھے کے حالات اچانک کیوں خراب ہوئے۔ اسکی بڑی وجہ طالبان کا یہ علاقہ جو انکے لئے رکاوٹ تھا۔ درمیان سے نکالنا تھا۔ اور اسکو اپنا مرکز بنانا تھا۔ انہوں نے خیواص کو درمیان سے نکالنے کیلئے مقامی منگلوں کے ساتھ مذکرات کئے۔ انکوفورس اور اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدے کئے۔ خیواص کے مظلوم عوام نے جلد محسوس کیا۔ کہ حالات کارخ تبدیلی اختیار کر رہا ہے۔ وہ چوکنے ہوئے اور اپنے علاقے کی حفاظت کیلئے کمر بستہ تیار ہوئے۔ ہوا یوں کہ منگلوں نے مورخہ 4 ستمبر 2010ء کو اچانک خیواص کے دو گھرانوں جو خیواص سے چند کلومیٹر جنوب کی طرف اسماعیل میلہ کے قریب رہتے تھے ان پر اچانک حملہ کر دیا۔ گھروں کے مالک صوبیدار جان حسین اور صوبیدار ہدایت حسین کے ان سے اچھے تعلقات تھے۔ بلکہ قرآن پر قسم کھا کر انکے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن منگلوں نے نہ قرآن کی پروا کی اور نہ معاہدے کی۔ دونوں گھرانوں پر بھاری ہتھیار آر آر میزائیل وغیرہ سے یلغار کی۔ مکانات کی چھتیں بیٹھ گئیں ان میں آگ لگ گئی گلاب حسین اور جان حسین کا بیٹا امین حسین شہید اور صوبیدار جان حسین شدید زخمی ہوئے۔ لیاقت حسین جو ان کی حفاظت کیلئے شلوزان سے گئے تھے اور ان کے رشتہ دار تھے بھی شہید ہوئے۔ تین دن بعد اسکی لاش نکالی گئی۔ لیاقت حسین ایک تعلیم یافتہ جوان تھے۔ بڑے بہادر ، دلیر اور باہمت انسان تھے۔ مذہبی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ شہادت اس کا نصب العین تھا۔ اور آخر بہادری اور دلیری سے رائفل چلاتے ہوئے آخری گولی تک دشمنوں کے عزائم کو نا کام بنانے کیلئے لڑتے رہے۔ آخر وہ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے اور جاودان زندگی حاصل کی۔ یزیدیوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ وحشی درندوں کی طرح حملے کرتے رہے۔ اور آخر کار مظلوم اور مجبور خیواصیوں کو نشانہ بنایا۔ ان پر بھر پور طاقت کے ساتھ حملہ کیا۔ بہادر حسینیؑ لشکر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا تھا۔ لیکن مخالف سمت سے ایک منٹ میں ایک ہزار مارٹر لانچرز اور آر آر کے گولے گرتے تھے۔ اور خیواص ہولناک منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ہر طرف شہداء کی لاشیں پڑی تھیں۔ اور جو زندہ تھے وہ برابر مشینیں چلا رہے تھے۔ لیکن دشمن کی تعداد اور گرتے ہوئے گولے ان سے ہزار گناہ زیادہ تھے۔ وہ آخری دم تک لڑے اور پیچھے ہٹنے کا نام نہ لیا۔ حتیٰ کہ سب ابدی نیند سو گئے۔ یزیدی لشکر پورے زور اور قوت کے ساتھ خیواص میں داخل ہوا۔ اور کربلا کے یزیدیوں کی یاد تازہ کر دی۔ لیکن کربلا والوں کے نقوش قدم پر گامزن حسینیؑ اب سوئے ہوئے تھے۔بقول شاعر
مل رہے ہیں کربلا والوں سے یہ دونوں سبق کیا
کیا بچانا چاہیئے اور کیا لٹانا چاہیئے
وقت شہادت تک خط کربلا پر چلنے والے حسینیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انکے دل اسوہ وقت شہادت تک خط کر بلا پر چلنے والے حسینیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انکے دل اسوہ حسینی سے منور تھے اور ان کے افکار نے کربلا سے فیضان حاصل کیا تھا۔ لیکن ان کی مظلوم لاشوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا۔ جو کربلا کے میدان میں حسینؑ کے مظلوم ساتھیوں سے کیا گیا تھا۔ وہاں ان کی لاشیں پائمال ہوئی تھیں۔ تو کربلائے خیواص کی لاشوں کو بری طرح مسخ کیا گیا۔ تیز دھار کلہاڑیوں اور چھریوں سے ان کو ٹکڑے ٹکڑےکردیا۔ اور بے گور و کفن لاشوں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور ان پر بڑے بڑے پتھر ڈال دیئے۔ یزیدی لشکر جب خیواص میں داخل ہوا۔ تو پہلے امام بارگاہ کو آگ لگادی۔ علم عباسؑ کو آگ لگا دی اور گہوارہ علی اصغرؑ کو جلا دیا۔ یادگار کربلا سب راکھ میں تبدیل ہوئے اور ظالم دہشت گرد چلتے کودتے اور چلاتے رہے۔ شلوزان تنگی کی فتح کے دوران ہمارے مجاہدوں کو سی ڈیز ملے۔ ان میں ایک خیواص کے جلانے کی سی ڈی بھی تھی۔ جسے سب نے دیکھ لیا۔ اسی سی ڈی کے مطابق جب وہ خیواص میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ایک شمر ذی الجوشن کا بیٹا زور زور سے چلاتا ہے۔ فلاں کیا یہ خیواص ہے؟ یہی خیوص ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں یہ خیواص ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لگاؤ آگ امام باڑے کو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظر دیا۔ اور بے گور و کفن لاشوں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور ان پر بڑے بڑے پھر ڈال دیئے ۔ یزیدی لشکر جب خبوص میں داخل ہوا۔ تو پہلے امام بارگاہ کو آگ لگادی۔ علم جہان کو آگ لگا دی اور گہوار وعلی اصغر کو جلا دیا۔ یادگار کر با اسب راکھ میں تبدیل ہوئے اور ظالم دہشت گرد چلتے کودتے اور چلاتے رہے۔ شلوزان جنگی کی فتح کے دوران ہمارے مجاہدوں کو سی ڈیز ملے۔ ان میں ایک خیوص کے جلانے کی ڈی بھی تھی ۔ جسے سب نے دیکھ لیا۔ اسی سی ڈی کے مطابق جب وہ فیوس میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ایک شمر ذی الجوشن کا بیٹاز ورزور سے چلاتا ہے۔ فلاں کیا یہ خیوص ہے؟ یہی خیوص ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں یہ خیوس ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لگاؤ آگ امام باڑے کو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظر حسین کے مانے والوں کے لئے نہ دیکھنے کے قابل ہیں۔ اور نہ ان سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا صرف ایک دن انکے تقریباً تین سو گھرانوں سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے پونے چار گھنٹوں میں تقریباً پندرہ دیہات صفہ ہستی مٹ گئےحسینی" جانباز خیواص میں داخل ہوئے اور ٹکڑےٹکڑے لاشوں کو نکال کر پاراچنار لے کے آئے۔
پروفیسر حاجی عابس حسین عابس
مورخہ 2010 سے 2012 تک پیواڑ کا پسِ منظر
پیواڑ کرم ایجنسی کے شمال مغرب میں افغانستان کے بارڈر کے نزدیک واقع ایک گنجان آباد بستی ہے۔ اسکے تینوں بلکہ چاروں طرف منگل ، خروٹی اور زدران قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ اور ان کی آبادی بھی پیواڑ کے شمال میں اُونچے پہاڑوں پر ہے۔ اور پیواڑ ہر وقت اُن کے نزغے میں رہتا ہے۔ شلوزان کی طرح یہ قبیلے بھی علی زئی غنڈیخیل قبیلوں کے ابا و اجداد نے جنگلوں اور سرحدوں کی حفاظت کی خاطر آباد کئے تھے۔ اور وہ بطور ہمسایہ آباد ہوئے تھے۔ جس کا تفصیل سے ذکر گزیٹر میں ہوچکا ہے۔ گزیٹر میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ منگل قبیلے کے لوگوں کو مالکوں سے اجازت لئے بغیر جلانے کی لکڑی بھی کاٹنے کی اجازت نہیں تھی۔ اور نہ اُن کو انکے جرگے میں بیٹھنے کا حق حاصل تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگ بھی دست اندازی کرتے کرتے جنگل کے مالک بن گئے۔ اور جنگل کو بے دردی سے کاٹ کر کروڑوں روپے کمالئے۔ اور اپنے مالکوں کی سرکوبی کیلئے اسلحہ خریدنا شروع کیا۔ اب جب قبائیلی علاقہ جات میں طالبانائیزیشن نے زور پکڑا تو یہ علاقہ اُن کا خاص مرکز رہا۔ میرمئے نرئے اور تری منگل طالبان کے خاص مرکز رہے۔ اُن کو قبائیلی علاقہ جات اور افغانستان سے بے پناہ اسلحہ اور ایمونیشن ملا وہ پیواڑ کو مستقل طور پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتے رہے۔ اور مظلوم پیواڑیوں کو تنگ کرنا شروع کیا۔ شلوزان کی طرح اُن کی ندیوں کے بند کاٹ دئے۔ اور واٹر سپلائی سکیم کو منقطع کیا۔ روز روز بہانے ڈھونڈتے رہے۔ اور پیواڑ پر چاروں اطراف سے دوشکہ ، زیڑکئے ، مارٹر ، میزائیل اور آر آر وغیرہ ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ اور حکومت سے ناجائز مطالبات شروع کئے۔ پیواڑ کے بہادر اور حوصلہ مند عوام نے پھر بھی امن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور حکومت سے رجوع کیا۔ لیکن حکومت طفل تسلی سے کام لیتی رہی۔ انکے مخالفوں کو کبھی بھی ناراض نہیں کیا۔ بلکہ اُنکہ مطالبات پورے کئے۔
منگلوں کیلئے دو پکے سڑکیں پہلے سے موجود تھے۔ لیکن اب وہ بھیٹر اور بھیڑیا کا کام کر کے بہانے ڈھونڈتے تھے۔ اور ایک تیسری سڑک کا مطالبہ کرنے لگے۔ جو کہ پیواڑ والوں کیلئے ایک چیلنج تھا۔ پیواڑ میں غیرتی اور بہادر جوان موجود تھے۔ اُن میں کیپٹن علی اکبر جیسے نڈر اور پر عزم شحصیت بھی تھے۔ ڈاکٹر ریاض حسین جیسے بیدار معزز سیاستدان بھی موجود تھے۔ اُن میں ظاہر حسین شہید جیسے بہادر ، دلیر اور مستقل مزاج حسینؑی سپاہی بھی تھے۔ پیواڑ کا بچہ بچہ علمدارؑ کربلا جناب علی اکبؑر اور عونؑ و محمدؑ کے دستے کا سپاہی تھا۔ انکے بوڑھے بھی حبیبؑ و مسلمؑ کے سچے پیروکار تھے۔ انہوں نے ایک نیا کربلا سجانے کا عزم کیا تھا۔ وہ چار سال مسلسل اکیلے لڑتے رہے۔ وہ حسینؑ کا نام لے کر دشمن سے نبرداز ما ہوئے۔ اور انہیں عبرتناک شکست دی۔ شاعر فرماتا ہے۔
آئی کبھی جو مجھ کومنانے کے واسطے
تیرے ہی نام سے وہ مصیبت ٹلی حسینؑ
ہاں کربلائے پیواڑ میں بھی ایک سو سے زائد حسینیؑ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ سینکڑوں گھرانوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ کئی معصوم بچے یتیم ہوئے۔ سینکڑوں ماؤں کی گودیں خالی ہوئیں۔ کئی گھروں کے چولہے بجھ گئے۔ کئی جوانوں نے کربلا کے کڑیل جوان علی اکبرؑ کی راہ لی کئی نئے نویلے دلہے سہاگ لٹا کر عروس کو تنہا چھوڑ گئے۔ اور کئی سفید ریش بوڑھے حبیبؑ و مسلمؑ سے جاملے۔ پردہ دار خواتین نے بھی اپنے خون سے پیواڑ کی تاریخ رقم کی۔ مگر حکومت خاموش تماشائی بیٹھی رہی۔ انکو کیا معلوم کہ شہیدوں کے گھروں اور زخمیوں پر کیا گزر رہی ہے۔ اس کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ صرف وہی جانتے ہیں جن پر یہ قیامت گزری ہے۔ لیکن اُنکے حوصلے بلند ہیں۔ وہ موت سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔
وہ جو پڑھتے ہیں جو ان موت کو گلے لگنے
انکے اس عزم سے روشن ہوئے اطراف جہان
اس طرف آتش وآہن کی جو برسات ہوئی
وہ نہ جھکتے نہ جھجکتے ہیں سوئے مرگ روان
پیواڑ کے دلیر عوام نے دنیا پر ثابت کر کے دکھایا۔ کہ حسینؑ کے ماننے والے اگر تعداد میں کم بھی ہوں وہ دشمن سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ وہ حسینیؑ فوج کے سپاہیوں کی طرح یزیدی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ اور شکست کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ وہ پیام حسینؑ پر کار بند ہیں۔ اور حسینیؑ مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ ایک ہندو شاعر منشی گوپی ناتھ امن نے کیا خوب کہا ہے۔
رکھونہ راہ حق میں کبھی جان وتن عزیز
اے مومنو سنو یہ پیام حسینؑ ہے
جو تنک ظرف ہیں وہ لگائیں نہ اسکو ہاتھ
مستِ الست کیلئے جام حسینؑ ہے
کا فر کہے تو کہے کوئی امن کو مگر
اُسکے دل و جگر میں قیام حسینؑ ہے
اس جنگ میں پیواڑ کے مفلس اور غریب عوام کو ناقابل تلافی نقصانات ہوئے۔ چار سال تک پانی کی بندش کی وجہ سے انکی ہزاروں ایکڑ ذرخیز زمین نا قابل کاشت ہوکر اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ ناقص پانی کی وجہ سے سینکڑوں افراد ٹائیفائیڈ ، ایچ سی وی اور دیگر مہلک بیماریوں کے شکار ہوئے۔ کئی معصوم بچے دست ، قے اور ٹائیفائیڈ کا شکار ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے مہلک ہتھیاروں سے سینکڑوں مکانات کھنڈرات میں تبدیل ہوئے۔ اور مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے اُنکے اربوں روپے کا ایمونیشن ضائع ہوا۔ ان نقصانات کا ذمہ دار کون؟ ان نقصانات کا ازالہ کون کریگا؟ کیا جرگہ ان باتوں کو مدنظر رکھے گا ؟ اُنکا کروڑوں روپے کا جنگل تباہ ہوا۔ کیا حکومت اسکا معاوضہ وصول کریگا؟ یا مجرموں کو سزا دیگا؟ مجھے کوئی امید نہیں کہ ایک بات پر بھی غور ہو سکے۔ پشتو کے مقولے "تیر ھیر “۔ جو گزر گیا وہ بھول گیا پر عمل ضرور ہوگا۔ اور ایک بار پھر ظلم اور تشدد کا نشانہ بن جائیگا۔ لیکن پیواڑ کے عظیم فرزند ان سب حالات کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اُن کے عزم و استقامت میں ذرہ بھر لغزش کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے اپنی مٹی کی حاطر قربانیاں دی ہیں اور خون کی سرخی سے تاریخ رقم کی ہے۔ او تا قیامت یہ تاریخ دھرائی جائیگی۔
!بقول شاعر
جن چراغوں کو شہیدوں نے دیا اپنا لہو
اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
:قطعہ
ان چراغوں کو بجھا سکتی نہیں ہیں اندھیاں
ہو جسکے جوانوں کی خودی صورت فولاد
مورخہ 2011 میں شلوزان مجلس عزداری پر ماٹر اور میزائل کے گولے اور کوہ سفید کا تفصیل
مورخہ 12/12/2011 آج محرم کی پانچویں تاریخ تھی۔ شلوزان میں مجالس دو بجے سے شروع ہوتے ہیں۔ مولانا حسین الاصغر صاحب تقریر کر رہے تھے۔ کہ یزیدیوں کی طرف سے مارٹر کے گولے گرنے شروع ہو گئے۔ ایک گھر کے تین کم سن بچے خیال حسین ، مہدی حسین ، اور شباب حسین شہید اور اصغر حسین عرف بھٹو سمیت تین افراد شدید زخمی ہوئے۔ جنکو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پھول جیسے خوبصورت بچے سینہ کوبی کرتے ہوئے امام باڑہ کیطرف روان تھے۔ کہ ظالموں نے ان نازک کلیوں کو کھلنے نہیں دیا۔ اور انکے نازک اعضاء کے ٹکڑے زمین پر بکھیر دئیے۔ وقفے وقفے سے گولے گرتے رہے کل چودہ گولے گرائے گئے۔ جن میں زیادہ گولے زنانہ امام بارگاہ کے نزدیک گرے۔ عزاداری امام حسین کو جاری رکھا گیا۔ اور امام باڑہ نعرہ حیدری اور حسینیت زندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ مولانا صاحب نے اسی مناسبت سے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا۔ کہ بنی اُومیہ اور بنی عباس کے دور میں لوگوں کے ہاتھ ، پاؤں اور زبان کاٹے گئے۔ لیکن زیارت امام حسین اور عزاداری بند نہیں ہوئی۔ چودہ سو سال سے یہ سلسلہ جاری رہا۔ اور تا قیامت جاری رہیگا۔ ذاکرین حسین منتظر حسین اور سیلاب حسین نے بھی اسی مناسبت سے نظم سنائی۔ جو انکی شیرین زبانی اور بچوں کی اندوہناک شہادت کی وجہ سے نہایت پر اثر رہی۔ نوجوانان دسته جناب علی اکبر فورا مسلح ہو کر پہاڑ کی بلند چوٹیوں پر پہنچے۔ اور جوابی کاروائی کر کے یزیدیوں کو دور بھگایا۔ 5 بجے ملیشیا کی طرف سے توپ کے گولے داغے گئے۔ لیکن وہ بھی ہمارے مورچوں کے نزدیک گرے۔
مورخہ 13/12/2011 آج شلوزان اور پیواڑ کے علاقوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کیں۔ یہ انتظام پی اے کرم نے محرم الحرام کیلئے کیا تھا۔ آج شلوزان کے مشران پی اے کرم سے ملے اُسے بتایا گیا۔ کہ ہیلی کا پٹر ٹل میں بیٹھتے ہیں۔ حادثے کی صورت میں جب وہ ٹل سے پرواز کر کے شلوزان پہنچتے ہیں۔ تو اسمیں کم از کم نصف گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ اور شر پسند بھاگنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بہتر ہوگا۔ کہ وہ پارا چنار میں رہیں۔ اور دہشت گردی کے خلاف فوری کاروائی کریں۔ پی اے نے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا۔ کم سن شہداء کو چالیس چالیس ہزار روپے فی کس اور زخمیوں کو بیسں ہزار روپے فی کس دینے کا وعدہ بھی کیا۔ جو سیکرٹری انجمن کی ذریعے دیئے گئے۔
شلوزان میں چھاپہ مارحملوں (مارٹروں اور میزائل حملوں ) سے نمٹنے کیلئے لقمان خیل سے خیواص کی سرحدات تک تقریبا دو ہزار نو جوان بلند ترین چوٹیوں پر متعین کے گئے۔ جو شدید ترین سردی میں چار دنوں سے وہاں کمر بستہ تیار کھڑے تھے۔ امام بارگا ہوں میں حسب معمول مجالس عزا بر پا ہوتے رہے۔ جلوس شب عاشورا اور ذوالجناح روانی جوش و خروش کے ساتھ بخیریت اختتام پذیر ہوئے۔
مورخہ 17/12/2011 روز عاشورا تمام کرم ایجنسی خصوصاً پارا چنار ، شلوزان اور پیواڑ میں سابقہ روایات کے تحت عزت و احترام سے منایا گیا۔ پاراچنار میں علمدار فیڈریشن اور پاسداران حسین نے شب وروز ایک کر کے ڈیوٹی دی۔ انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی یوسف حسین م اراکین انجمن ، حاجی حامد حسین صدر فیڈ ریشن حاجی رووف حسین ، حاجی اسحٰق حسین اور ارباب حسین بھی 24 گھنٹے ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے۔
کوه سفید کی بلند چوٹیوں پر عزاداری و زنجیر زنی
شلوزان میں تقریباً دو ہزار نوجوانوں نے بلند ترین چوٹیوں پر پانچ رات گزارے اور یزیدیوں کے ارادے خاک میں ملادیئے۔ انہوں نے یزیدیوں سے دست بدست جنگ کی۔ اور انکو در و بھگایا۔ اُن میں سے ایک ہلاک یا زخمی بھی ہوا۔ جسے اُٹھا کر وہ بھگا لے گئے۔ بعض عقیدت مندوں نے بغیر سحری و افطار کے خشک روٹی اور چنوں کے ساتھ روزے بھی رکھے۔ اور غیرت مند حسینی جوانوں نے عزاداری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے بلند و بالا چوٹیوں پر زنجیر زنی کی اور فسٹ ایڈ ، مرہم پٹی اور گولیوں کے بغیر خون میں لت پت گھر آئے۔
کربلائے پاراچنار جلد دوم
پروفیسر حاجی عابس حسین عابس بنگش
مورخہ 2010 میں شلوزان اور تنگی کے درمیان جنگ کا تفصیل ، کربلائے پاراچنار جلد دوم
منگلوں نے اپنی دیربینہ روایات کو برقرار رکھنے کیلئے گزشتہ مہینے شلوزان اور دراوی کے پائپ لائنز اور ندیاں کاٹ دی تھیں۔ حکومت انکو بحال کرنے میں ناکام ہوئی تھی۔ اور منگل پھر اپنے مطالبات منوانے پر زور دے رہے تھے۔ تاہم شلوزان والوں نے امن کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اور کوئی جوابی کاروائی نہیں کی۔ آخیر ہوا یوں کہ مورخہ 3/9/2010 پر انہوں نے شلوزان درہ (ایک چھوٹا گاؤں) پر حملہ کر دیا۔ لیکن وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اور انکا حملہ پسپا کیا گیا۔
مورخہ 4/9/2010 پر انہوں نے تتقی کوٹہ کے گاؤں میں واقع صوبیدار جان حسین اور صوبیدار ہدایت حسین آف خیواص کے گھر پر ہلہ بول دیا۔ لانچر ۔ آر آر اور پچھتر کے گولیاں استعمال کیں۔ جن سے مکان کی چھت بیٹھ گئی۔ اور مکان میں آگ لگ گئی۔ مکان میں بیٹھے ہوئے چار یا پانچ افراد نے مردانہ وار مقابلہ کیا۔ تا ہم امین حسین ولد صو بیدار جان حسین ، لیاقت حسین ولد حاجی عمران علی اور گلاب حسین شہید ہوئے۔ صوبیدار جان حسین مع دو بچوں کے شدید زخمی ہوئے۔ بڑی مشکل سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالا گیا۔ تاہم شلوزان کے بہادر سپوت اور تعلیم یافتہ جوان لیاقت حسین کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ جسے دو دن بعد نکالا گیا۔
تکبر اور غرور کے گھمنڈ میں مست دہشت گردوں نے مورخہ 5/9/2010 پر خیواص پر حملہ کر دیا۔ خیواص والوں کی تعداد کم تھی۔ اُن پر حملہ چاروں اطراف سے کیا گیا۔ اور بڑے ہتھیاروں مثلا آر آر پچھتر اور میزائلوں کی بارش کی گئی۔ لیکن ان غریب غیور بہادروں نے انکے قدم آگے نہ بڑھنے دیئے۔ اسی دن دراوی کا ایک سید شہید ہوا۔ 6/9/2010 پر منگلوں نے ایک اہم مورچے شڑ شمو سر پر قبضہ کیا۔ جس سے خیواص کے رسد کے راستے بند ہوئے ۔ شلوزان ، دراوی اور علی شاری کے جوانوں نے جوابی کاروائی کی۔ تین دن شدید جنگ ہوئی۔ اس دوران طوری اقوام کے بہادروں کی کمک بھی پہنچ گئی۔۔
مورخہ 9/9/2010 کو فیصلہ کن جنگ کا فیصلہ ہوا منگلوں نے مورچہ خالی کرایا۔ لیکن اس میں ہمارے چار جوان شہید ہوئے۔ جن میں ایک پیواڑ ایک شینگک ایک یعقوبی اور ایک خواجہ کوٹ کا تھا۔
مورخہ 8/9/2010 پر درہ کے مقام پر راقم الحروف (پروفیسر عابس حسین) کا چچازاد بھائی وقار حسین ولد کربلائی جواد حسین بھی شہید ہوا ( اسی دن میں پشاور سے آیا۔ کتاب کی چھپائی کے سلسلے میں گیا تھا۔ ( شہید کا ایک بھائی امجد حسین بھی کچھ عرصہ پہلے شہید ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ منگلوں کی لاشوں سے مورچہ بھرا پڑا تھا۔ بھاری اسلحہ بھی ان سے قبضہ کیا۔
مورخہ9/9/2010 منگلوں نے شلوزان لرزر ، دراوی اور علی شاری پر ماٹروں اور میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی۔ صوبیدار میر غلام کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شدید زخمی ہوئیں۔ واضح رہے کہ صوبیدار صاحب کا ایک بیٹا پہلے بھی شہید ہوا تھا۔
مورخہ 10/9/2010 پر میزائلوں اور ماٹروں کی بارش سے شلوزان کے گنجان آباد گاؤں کے کئی مکانات ، مقامات مقدسہ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ لیکن اس سے علاقے کے بوڑھوں ، بچوں اور جوانوں کے عزائم اور حوصلوں میں فرق نہیں آیا اور نہ کوئی جانی نقصان ہوا۔
امام زمانؑ ہماری مدد کرتے رہے۔ اور میزائیل خالی جگہوں پر گرتے رہے۔ 11/9 عیدالفطر کا دن تھا۔ منگلوں نے مرکزی امام باڑہ و شلوزان کو تارگٹ بنایا۔ اور شلوزان پر پچاس کے قریب میزائیل اور مارٹر کے گولے گرائے۔ معروف شخصیت سید اکبر جان کی بیوی اور سید گلفام حسین کی والدہ شہید اور اسکا بیٹا سید اصغر جان شدید زخمی ہوا۔ زیادہ گولے کھیتوں اور باغوں میں گرے۔ لیکن حکومت خاموش رہی۔
مورخہ 13/9/2010 حکومت نے ایئر پورٹ پر توپیں نصب کیں۔ وہاں سے مورچوں پر فائرنگ کی۔ اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی ہمارے مورچوں پر شیلنگ کی۔ اور مشران قوم کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کے بعد ہم نے مورچے خالی کرائے۔ اور اسلحہ واپس لے آئے۔ دونوں طرف ملیشیا کوڈ پلائیڈ (تعینات) کیا۔ ہمارے مورچے خالی ہوئے۔ تو منگلوں نے خیواص پر حملہ کر دیا۔
مورخہ 14/9/2010 منگلوں کی کمینگی حد سے تجاوز کرگئی۔ 2 ماہ سے پانی کی بندش اور خیواص پر حملے کے بعد انہوں نے مزید تجاوز شروع کیا۔ اور روز روز کمینہ پن کا ثبوت دیتے رہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ کہ کوئی بیرونی طاقت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اس بات کا دوسرا ثبوت یہ ہے۔ کہ یہ لوگ روزانہ لاکھوں روپوں کا ایمونیشن خراب کرتے ہیں۔ یہ کہاں سے لاتے ہیں؟ آخیر مجبور ہوکر مرکز کی غیور اور دلیر قیادت نے ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کر دیا۔ جونہی ہم نے عملی جامہ پہنانے کی نیت کی۔ کمانڈنٹ کرم ملیشیا کی طرف سے ہمارے مورچوں پر توپوں سے گولہ باری شروع کی۔ حالانکہ عید کے دن منگلوں کی طرف سے بھی تقریباً پچاس گولے گرے۔ لیکن کمانڈنٹ صاحب خاموش رہے۔ کمانڈنٹ کی اس حرکت کے بعد ہمارا یہ پروگرام ناکام ہوا۔ آج ہمارے چار جانباز زخمی ہوئے۔ ملیشیا کی گولہ باری سے بھی چارافراد زخمی ہوئے۔
مورخہ 14/9/2010 شلوزان میں جنگ جاری رہی۔آج چھ سات مارٹر کے گولے گرے۔ پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ میں ایک اجلاس ہوا۔ ہر قوم سے دو دو افراد کی ایک کمیٹی بنائی گئی۔ تا کہ حکومت اور اہلسنت کے ساتھ مذاکرات کرے۔ رات کو حکومت نے توپ کے پانچ گولے گرائے۔ جن میں سے چار ہمارے مورچوں پر گرے۔
مورخہ 15/9/2010 جنگ نے شدت اختیار کی۔ رات کو خیواص پر چار اٹیک ( حملے ) ہوئے۔ جسکو ناکام بنا دیا گیا۔ ہمارے چھ افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ جبکہ دشمن کی اموات کی تعداد کئی گنا زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ہمارے شہداء میں کراحیلہ اور خیواص کے افراد شامل ہیں۔
خیواص جل رہا ہے
بمورخہ 16/9/2010 آج جوش و خروش اور جذبات کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ آغا صاحب خود شلوزان آئے پر جوش تقریر کی۔ سیکرٹری انجمن حسینیہ کیپٹن حاجی یوسف حسین اور اراکین انجمن کئی دنوں سے دن رات ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ فیڈریشن کے جوان ہمہ تیار کھڑے تھے۔ شلوزان کے مشران اور جوان دشمن کے مقابلے کیلئے مستعد و تیار تھے۔ اور دشمن پر بھر پور حملہ کرنے گھروں سے نکلے تھے۔ طوری قوم کے غیور فرزند سینکڑوں کی تعداد میں خیواص کے مظلوم بھائیوں کی مدد کیلئے آئے تھے۔ شدید ترین جنگ ہوئی۔ لقمانخیل کی طرف سے شلوزان ، درادی اور لرزر نے حملہ کیا۔ اور علی شاری چار بجگان کی نگرانی کر رہے تھے۔ منگلوں کے تین دیہات جلائے گئے۔ اس محاذ پر ہمارے بہادر نو عمر جوان عجائب حسین اور جاوید حسین جام شہادت نوش کر گئے۔ آٹھ زخمی بھی ہوئے ۔ جبکہ حیواص کے محاذ پر جنگل کے وحشی درندے ہزاروں کی تعداد میں بھاری اسلحہ سے لیس مجبور اور غریب" خیواصیوں پر ٹوٹ پڑے۔ اُن پر چاروں اطراف سے گولہ باری شروع کی۔ "ہائے خیواص جل گیا" "یادگار جگر گوشہ زہراء سلام اللہ علیہا " امام بارگاہ جل گیا، علم علمدارؑ حسینؑ جل گیا۔ اور گہوارہ شہزادہ علی اصغرؑ کو بھی جلا دیا۔ کل یوم عاشورا اور کل ارض کربلا آج خیواص پھر کربلا بنا آج اسکی مٹی کربلائے پاراچنار کے شہیدوں سے بھری پڑی تھی۔ آج خیواص کی سرزمین بے گناہ بوڑھوں بچوں کے خون سے سرخ تھی۔ آج پھر کربلا زندہ ہے۔
متعدد افراد شہید ہوئے خیواص یزیدیوں کے قبضے میں رہا شہداء کی لاشیں بھی انکے قبضے میں رہیں۔ لاشوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جو یزیدیوں نے کربلا میں کیا تھا۔ پانچ شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔ جن کا تعلق بغدی ، کراخیلہ وغیرہ سے تھا۔ حکومت کی گولہ باری جاری رہی۔ جس سے خیواص میں آگ لگ گئی۔ مرکز کے قائدین پوری طرح الرٹ تھے۔ اور جنگ کی نگرانی خود کی اور ساری رات جاگے رہے۔ ٹی وی کی اطلاع کے مطابق دونوں اطراف سے 136 ہلاک اور 116 زخمی ہوئے۔ 17/10 کل رات آٹھ جنازے نکالے گئے۔ چار زندہ اور 2 زخمی بھی نکالے آج جر گہ آیا۔ لاشوں کو نکالنے کیلئے سیس فائر کرنے کے باوجود انہیں اندر نہ جانے دیا گیا۔ ملیشیا نے جوابی کاروائی نہیں کی۔ کچھ دیر بعد ملیشیا کے جوان واپس ہوئے۔ اور پیواڑ کے راستے خیواص جانے کی کوشش کی۔ لیکن وحشی درندوں نے ان کو جانے نہیں دیا۔ اور اُن پر فائرنگ کرتے رہے۔
غرور کا سر نیچا
مورخہ 18/9 منگلوں کے تکبر کو خاک میں ملانے کا دن
آج کا دن تاریخی اہمیت کا دن ہے۔ مظلوم حسینیوں کے مکانات سے دھواں اُٹھ رہا ہے۔ جو پاراچنار سے بھی نظر آ رہا ہے۔ اُن کی ٹکڑے ٹکڑے لاشیں زمین پر پڑی ہیں۔ بیرونی مدد حاصل کرنے والے " متکبر "خوشی کے فائرنگ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف حسینیوں کی غیرت جوش میں آئی ہے۔ اور جوق در جوق شلوزان پہنچ رہے ہیں۔ اور یزیدیوں سے بدلہ لینے اور لاشوں کو نکالنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ جوان تو جوان چھوٹے بچے بھی عون و محمد کا راستہ اپنانے کیلئے ہاتھوں میں بندوق تھامے ہوئے نکلے ہیں۔ رات کو مرکزی امام بارگاہ دراوی میں غیرت اور بہادری کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا شور عجیب منظر پیش کر رہا ہے۔ سب حسینی اپنے مظلوم بھائیوں کی بے گور و کفن لاشیں دل کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اور انکے دل جلد جانے کیلئے بے قرار ہیں اُنکے دستوں کو ترتیب دے گئی۔ اور جانے کا حکم ملا پھر کیا تھا۔ شاہینوں کی طرح حملے کئے۔ سارے پہاڑ پر گولہ باری شروع ہوئی۔ پونے چار گھنٹوں میں 14 دیہات کے 300 گھرانے جلائے گئے۔ اور 50 مورچوں پر قبضہ کیا گیا۔ اُنکو طالبان سے مفت ملنے والا اسلحہ ان شاہینوں کے ہاتھ لگا۔ پوری ایجنسی میں چھوٹے بڑے، بوڑھے جوان ، مرد و خواتین جاگے تھے۔ اور آگ کے شعلے دیکھ رہے تھے۔ "خیواص دوبارہ قبضہ ہوا" مظلوم شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔ اور 15 کو زندہ نکالا گیا۔ جو بھوک اور زخموں سے نڈھال تھے۔ " آخر دشمن کا غرور خاک میں مل گیا اور وہ جنگل میں بھاگ کر جان بچانے لگے۔ ساری رات اپر کرم میں جشن کا سماں تھا۔ چھوٹے بڑے ساری رات جاگے رہے۔ متکبر منگلوں (خوار کبرجن ) کا غرور آج مٹ گیا۔ طالبان کہ ان کو شلوزان فتح کرنے کے طعنے دے رہے تھے۔ وہ خود اپنے گھروں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور اس طرح ہمارے آباؤ و اجداد نے جو تحم بویا تھا۔ انکے نواسوں نے جڑ سے نکال دیا۔
مورخہ 19/9/2010 کو حیواص سے 32 شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔




.jpeg)











