مورخہ 2011 شلوزان جنگ میں کوہ سفید پر عزاداری
عزاداری امام حسین ہماری شہ رگ ہے ہماری روح ہے۔ ہماری جان ہے۔ ہماری زندگی ہے ہماری بقا ہے اور ہمارا ایک متبرک ورثہ ہے۔ جو چودہ سو سال سے جاری و ساری ہے۔ اور تا قیامت جاری رہیگی۔ چودہ صدیوں سے بہت سی کوششیں ہوئیں کہ اس کو بند کرے۔ اور اس پر پابندی لگائے۔ لیکن عزاداران امام مظلوم نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ اپنے بچوں کی قربانی پیش کی۔ اُن کے ہاتھ پاؤں اور زبان کاٹے گئے۔ انکے گھر جلائے گئے۔ اور جائیدادیں لوٹ لی گئیں۔ لیکن عزاداری کو جاری رکھا۔ اب بھی حسین کے کروڑوں متوالے خواہ گرمی ہو یا سردی۔ بارش ہو یا ژالہ باری۔ گولیوں کی بوچھاڑ ہو یا خودکش دھماکوں کی افواہیں یہ عزاداری کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شلوزان تنگی کی سکوت کے بعد یزیدی دہشت گردوں نے محرم الحرام کی مجالس پر خفیہ ٹھکانوں سے مارٹر اور میزائیل پھینکنے شروع کئے۔ جن سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اور پانچویں محرم کو ایک مارٹر کے گولے سے ایک گھرانے کے تین معصوم بچوں کے نرم و نازک بدنوں کے ٹکڑے زمین پر بکھر گئے۔ اور انکے مظلوم خون سے زمین سُرخ ہوئی۔
محرم کی جلوسوں کی حفاظت کیلئے ڈھائی سونو جوانوں کا ایک دستہ تیار ہوا۔ اور پہاڑ کی بلند و بالا چوٹیوں پر چار رات شدید سردی میں گزار دیئے۔ اس حسینی دستے کے جوان بے قرار تھے۔ کہ کس طرح ظلم حسین کو منایا جائے۔ بعض اپنے ساتھ ٹائپ رکارڈر لے جا چکے تھے۔ چند جوان پہرہ دے رہے تھے جبکہ بہت سے نوجوان مرثیہ سُن کر زارو قطار روتے تھے۔ کئی جوانوں پر جنونی کیفیت طاری ہوئی اور ملنگی کرنے لگے۔ چند عقیدت مند جوانوں نے بغیر سحری کے خشک روٹی کے ساتھ روزے بھی رکھے۔
دسویں محرم کو پروگرام یہ بنایا گیا۔ کہ شلوزان کے مرکزی امام بارگاہ سے وائرلیس سیٹوں پر اُن کے ساتھ رابطہ کیا گیا۔ جوں ہی ادھر ذوالجناح کو برامد کیا گیا۔ پہاڑ کی چوٹیاں بھی یا حسین یا حسین کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ چند حسینی جوان اپنے ساتھ تیز دھار والے زنجیریں لے گئے تھے۔ خوب زنجیر زنی ہوئی۔ زنجیر زنوں اور بلیڈوں کے ساتھ سینہ کوبی کرنے والے جوانوں میں احباب حسین ، عصمت علی ، تنویر حسین اور ماجد حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔
کوہ سفید کا نام اب کوہ سفید نہ رہا۔ اب غم حسین میں بہنے والے خون سے سُرخ ہو گیا۔ یہی کاروائی روز اربعین پر بھی ہوئی۔ جب عزادار گھروں کو پہنچے خون میں اُنکے کپڑے لت پت تھے۔ لوگ حیرانگی سے پوچھتے کہ " کیا آپ کو گولی لگ گئی۔ وہ فخر سے بولتے۔ "ہم نے ذکر حسین کیا ہے۔ اور زنجیر زنی وسینہ کوبی کی ہے۔"
دُنیا والوں! ذرا حسین کے ان متوالوں کی عقیدت پر سوچ لو نہ فسٹ ایڈ کا سامان ، نہ مرہم پٹی ، نہ گولی نہ انجکشن ، نہ مددگار اور نہ منع کرنے والے۔ شدید سردی میں اتنے خون کا اخراج اور پھر بھی زندہ اور پہلے کی طرح تیار۔ کیا یہ حسین کا معجزہ نہیں؟ یزیدیو پھر بھی آپ حسین کے منکر ہو۔ تو جہنم آپ کو مبارک خداوندا بحق حسین ہمارے ان جوانوں کو بحفاظت رکھے۔ آمین
تم کو پیار یزید سے اور ہم کو اُنس حسین سے ہے
دوزخ سے دو قریب ہے جو دورشہ دارین سے ہے
کربلائے پاراچنار جلد دوم
پروفیسر حاجی عابس حسین عابس
