خیواص شلوزان تنگی میں شمال مغربی حصے میں واقع خوبصورت ، پر امن اور ایک دلکش بستی تھی۔ جہاں باقرخیل بنگش قبیلہ سینکڑوں سال سے آباد تھا۔ تقریبا 150 گھرانوں پر مشتمل یہ خوبصورت گاؤں لذیذ میوؤں اور باغات کیلئے مشہور تھا۔ یہاں میوے اس وقت پک جاتے جب ایجنسی میں میوؤں کا خاتمہ ہو جاتا۔ یہاں کے اخروٹ ، خرمانی ، آلوچے اور سیب نہایت لذیذ اور دیدہ زیب تھے۔
یہاں کے باشندے نہایت غریب اور سیدھے سادہ تھے۔ جلانے کی لکڑی کی فروخت اور ملیشیا میں ملازمت پر گزارہ کرتے تھے۔ یہاں بہت سے افراد زیر تعلیم سے آراستہ ہوئے تھے۔ اور سکولوں میں معلمین کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ خیواص چاروں طرف سے منگل قبیلے کی آبادی میں گھرا ہوا تھا۔ لیکن از قدیم الایام ان کے منگلوں سے اچھے تعلقات تھے۔ جب بھی شلوزان اور منگلوں کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوتا تو خیواص کے مشران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ، اور معاملے کوحل کر دیتے۔ 2007 ء یا نومبر 2008 ء کے فسادات میں یہ علاقہ اپنے بہتر تعلقات کی وجہ سے محفوظ رہا۔ لیکن یہاں کے غریب ، غیرتمند اور بہادر جوان دشمن کے مقابلے کیلئے ہمہ تن تیار تھے۔ خیواص کو کیوں جلایا گیا ؟ اور کیسے جلایا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ میں تو یہ لکھتے کوئی خوف محسوس نہیں کرونگا کہ یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ طالبانائزیشن کی ایجنسی میں گرفت مضبوط کی۔ تو شلوزان تنگی اور پیواڑ تنگی ان کے بڑے مرکز رہے۔ ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی خیواص تھا۔ جو ان کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا۔ اسی غرض سے کرم ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر نے شلوزان تنگی کا دورہ کرکے وہاں شب باش بھی ہوئے۔ اور حالات کا خود جائزہ لیا۔ اس واقعے کے کچھ سیاسی مقاصد بھی تھے۔ جو مختلف ممالک کے اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ نیٹ میں اور کربلائے پاراچنار کتاب میں موجود ہے میں اسکو یہاں اس لئے نہیں لکھوں گا پھر بہت لمبا ہو جائے گا۔ اگر کوئی اس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو کربلائے پاراچنار کتاب پڑھ لیں۔
سینکڑوں سال بعد خیواص جو امن کا گہوارہ تھا۔ اور جہاں کے غریب باشندے امن کی زندگی گزار رہے تھے کے حالات اچانک کیوں خراب ہوئے۔ اسکی بڑی وجہ طالبان کا یہ علاقہ جو انکے لئے رکاوٹ تھا۔ درمیان سے نکالنا تھا۔ اور اسکو اپنا مرکز بنانا تھا۔ انہوں نے خیواص کو درمیان سے نکالنے کیلئے مقامی منگلوں کے ساتھ مذکرات کئے۔ انکوفورس اور اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدے کئے۔ خیواص کے مظلوم عوام نے جلد محسوس کیا۔ کہ حالات کارخ تبدیلی اختیار کر رہا ہے۔ وہ چوکنے ہوئے اور اپنے علاقے کی حفاظت کیلئے کمر بستہ تیار ہوئے۔ ہوا یوں کہ منگلوں نے مورخہ 4 ستمبر 2010ء کو اچانک خیواص کے دو گھرانوں جو خیواص سے چند کلومیٹر جنوب کی طرف اسماعیل میلہ کے قریب رہتے تھے ان پر اچانک حملہ کر دیا۔ گھروں کے مالک صوبیدار جان حسین اور صوبیدار ہدایت حسین کے ان سے اچھے تعلقات تھے۔ بلکہ قرآن پر قسم کھا کر انکے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن منگلوں نے نہ قرآن کی پروا کی اور نہ معاہدے کی۔ دونوں گھرانوں پر بھاری ہتھیار آر آر میزائیل وغیرہ سے یلغار کی۔ مکانات کی چھتیں بیٹھ گئیں ان میں آگ لگ گئی گلاب حسین اور جان حسین کا بیٹا امین حسین شہید اور صوبیدار جان حسین شدید زخمی ہوئے۔ لیاقت حسین جو ان کی حفاظت کیلئے شلوزان سے گئے تھے اور ان کے رشتہ دار تھے بھی شہید ہوئے۔ تین دن بعد اسکی لاش نکالی گئی۔ لیاقت حسین ایک تعلیم یافتہ جوان تھے۔ بڑے بہادر ، دلیر اور باہمت انسان تھے۔ مذہبی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ شہادت اس کا نصب العین تھا۔ اور آخر بہادری اور دلیری سے رائفل چلاتے ہوئے آخری گولی تک دشمنوں کے عزائم کو نا کام بنانے کیلئے لڑتے رہے۔ آخر وہ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے اور جاودان زندگی حاصل کی۔ یزیدیوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ وحشی درندوں کی طرح حملے کرتے رہے۔ اور آخر کار مظلوم اور مجبور خیواصیوں کو نشانہ بنایا۔ ان پر بھر پور طاقت کے ساتھ حملہ کیا۔ بہادر حسینیؑ لشکر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا تھا۔ لیکن مخالف سمت سے ایک منٹ میں ایک ہزار مارٹر لانچرز اور آر آر کے گولے گرتے تھے۔ اور خیواص ہولناک منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ہر طرف شہداء کی لاشیں پڑی تھیں۔ اور جو زندہ تھے وہ برابر مشینیں چلا رہے تھے۔ لیکن دشمن کی تعداد اور گرتے ہوئے گولے ان سے ہزار گناہ زیادہ تھے۔ وہ آخری دم تک لڑے اور پیچھے ہٹنے کا نام نہ لیا۔ حتیٰ کہ سب ابدی نیند سو گئے۔ یزیدی لشکر پورے زور اور قوت کے ساتھ خیواص میں داخل ہوا۔ اور کربلا کے یزیدیوں کی یاد تازہ کر دی۔ لیکن کربلا والوں کے نقوش قدم پر گامزن حسینیؑ اب سوئے ہوئے تھے۔بقول شاعر
مل رہے ہیں کربلا والوں سے یہ دونوں سبق کیا
کیا بچانا چاہیئے اور کیا لٹانا چاہیئے
وقت شہادت تک خط کربلا پر چلنے والے حسینیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انکے دل اسوہ وقت شہادت تک خط کر بلا پر چلنے والے حسینیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انکے دل اسوہ حسینی سے منور تھے اور ان کے افکار نے کربلا سے فیضان حاصل کیا تھا۔ لیکن ان کی مظلوم لاشوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا۔ جو کربلا کے میدان میں حسینؑ کے مظلوم ساتھیوں سے کیا گیا تھا۔ وہاں ان کی لاشیں پائمال ہوئی تھیں۔ تو کربلائے خیواص کی لاشوں کو بری طرح مسخ کیا گیا۔ تیز دھار کلہاڑیوں اور چھریوں سے ان کو ٹکڑے ٹکڑےکردیا۔ اور بے گور و کفن لاشوں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور ان پر بڑے بڑے پتھر ڈال دیئے۔ یزیدی لشکر جب خیواص میں داخل ہوا۔ تو پہلے امام بارگاہ کو آگ لگادی۔ علم عباسؑ کو آگ لگا دی اور گہوارہ علی اصغرؑ کو جلا دیا۔ یادگار کربلا سب راکھ میں تبدیل ہوئے اور ظالم دہشت گرد چلتے کودتے اور چلاتے رہے۔ شلوزان تنگی کی فتح کے دوران ہمارے مجاہدوں کو سی ڈیز ملے۔ ان میں ایک خیواص کے جلانے کی سی ڈی بھی تھی۔ جسے سب نے دیکھ لیا۔ اسی سی ڈی کے مطابق جب وہ خیواص میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ایک شمر ذی الجوشن کا بیٹا زور زور سے چلاتا ہے۔ فلاں کیا یہ خیواص ہے؟ یہی خیوص ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں یہ خیواص ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لگاؤ آگ امام باڑے کو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظر دیا۔ اور بے گور و کفن لاشوں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور ان پر بڑے بڑے پھر ڈال دیئے ۔ یزیدی لشکر جب خبوص میں داخل ہوا۔ تو پہلے امام بارگاہ کو آگ لگادی۔ علم جہان کو آگ لگا دی اور گہوار وعلی اصغر کو جلا دیا۔ یادگار کر با اسب راکھ میں تبدیل ہوئے اور ظالم دہشت گرد چلتے کودتے اور چلاتے رہے۔ شلوزان جنگی کی فتح کے دوران ہمارے مجاہدوں کو سی ڈیز ملے۔ ان میں ایک خیوص کے جلانے کی ڈی بھی تھی ۔ جسے سب نے دیکھ لیا۔ اسی سی ڈی کے مطابق جب وہ فیوس میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ایک شمر ذی الجوشن کا بیٹاز ورزور سے چلاتا ہے۔ فلاں کیا یہ خیوص ہے؟ یہی خیوص ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں یہ خیوس ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لگاؤ آگ امام باڑے کو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظر حسین کے مانے والوں کے لئے نہ دیکھنے کے قابل ہیں۔ اور نہ ان سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا صرف ایک دن انکے تقریباً تین سو گھرانوں سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے پونے چار گھنٹوں میں تقریباً پندرہ دیہات صفہ ہستی مٹ گئےحسینی" جانباز خیواص میں داخل ہوئے اور ٹکڑےٹکڑے لاشوں کو نکال کر پاراچنار لے کے آئے۔
پروفیسر حاجی عابس حسین عابس


