پاراچنار: سرزمینِ شہداء سے ایران سے یکجہتی اور اسرائیل سے بیزاری کا بھرپور اظہار
پاراچنار سرزمینِ شہداء، استقامت اور مزاحمت کا استعارہ ایک بار پھر امتِ مسلمہ کی صفِ اول میں نظر آیا۔ اس جمعہ کو نماز کے بعد ہزاروں نوجوانانِ پاراچنار نے اپنے محبوب ملک اسلامی جمہوریہ ایران سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف بھرپور بیزاری کا اظہار کیا۔
پاراچنار کے غیور عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اپنی سرزمین کے محافظ ہیں بلکہ عالمی اسلامی برادری کے حق میں بھی اپنی آواز بلند کرنے میں ہمیشہ پیش پیش ہیں۔
ایران یعنی ہماری جان
شرکاء نے بھرپور جذبے کے ساتھ نعرے بلند کیے:
"ایران یعنی ہماری جان، ہماری شیعیانِ علیؑ کی پہچان"
یہ الفاظ نہ صرف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ایک تاریخی و مذہبی رشتے کی گہرائی کو بھی بیان کرتے ہیں۔ ایران، جس نے ہمیشہ عالمی استعمار اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی، آج بھی امت مسلمہ کے دلوں میں بس رہا ہے۔
اسرائیل سے اظہارِ بیزاری
اس موقع پر شرکاء نے فلسطین اور غزہ کے مظلوم عوام سے بھی بھرپور ہمدردی کا اظہار کیا۔ بینرز، پلے کارڈز، اور پرجوش نعرے بازی کے ذریعے اسرائیل کی مظالم پر شدید مذمت کی گئی۔ یہ اجتماع محض سیاسی اظہار نہیں بلکہ ایک اخلاقی و ایمانی فریضہ تھا۔
پاراچنار ہر لمحہ ایران کے ساتھ
پاراچنار کے باسیوں نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ:
"پاراچنار ہر لمحہ ایران کے ساتھ ہے۔"
یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک مزاحمتی سوچ، جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کی علامت ہے۔ یہاں کے نوجوان دل سے اور عمل سے امت کی وحدت، اتحاد، اور خودداری کے پیغام کو عام کرتے ہیں۔
اختتامی پیغام
پاراچنار کا یہ اجتماع صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک پیغام تھا کہ
"جہاں کہیں بھی ظلم ہو، وہاں کے خلاف صدائے حق بلند کی جائے گی۔اور جہاں کہیں بھی مظلوم ہوں، پاراچنار ان کے ساتھ کھڑا ہو گا۔
