مورخہ 2011 میں شلوزان مجلس عزداری پر ماٹر اور میزائل کے گولے اور کوہ سفید کا تفصیل


                       شلوزان ، مجلس عزاداری پر مارٹر کے گولے

               مورخہ 12/12/2011 آج محرم کی پانچویں تاریخ تھی۔ شلوزان میں مجالس دو بجے سے شروع ہوتے ہیں۔ مولانا حسین الاصغر صاحب تقریر کر رہے تھے۔ کہ یزیدیوں کی طرف سے مارٹر کے گولے گرنے شروع ہو گئے۔ ایک گھر کے تین کم سن بچے خیال حسین ، مہدی حسین ، اور شباب حسین شہید اور اصغر حسین عرف بھٹو سمیت تین افراد شدید زخمی ہوئے۔ جنکو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پھول جیسے خوبصورت بچے سینہ کوبی کرتے ہوئے امام باڑہ کیطرف روان تھے۔ کہ ظالموں نے ان نازک کلیوں کو کھلنے نہیں دیا۔ اور انکے نازک اعضاء کے ٹکڑے زمین پر بکھیر دئیے۔ وقفے وقفے سے گولے گرتے رہے کل چودہ گولے گرائے گئے۔ جن میں زیادہ گولے زنانہ امام بارگاہ کے نزدیک گرے۔ عزاداری امام حسین کو جاری رکھا گیا۔ اور امام باڑہ نعرہ حیدری اور حسینیت زندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ مولانا صاحب نے اسی مناسبت سے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا۔ کہ بنی اُومیہ اور بنی عباس کے دور میں لوگوں کے ہاتھ ، پاؤں اور زبان کاٹے گئے۔ لیکن زیارت امام حسین اور عزاداری بند نہیں ہوئی۔ چودہ سو سال سے یہ سلسلہ جاری رہا۔ اور تا قیامت جاری رہیگا۔ ذاکرین حسین منتظر حسین اور سیلاب حسین نے بھی اسی مناسبت سے نظم سنائی۔ جو انکی شیرین زبانی اور بچوں کی اندوہناک شہادت کی وجہ سے نہایت پر اثر رہی۔ نوجوانان دسته جناب علی اکبر فورا مسلح ہو کر پہاڑ کی بلند چوٹیوں پر پہنچے۔ اور جوابی کاروائی کر کے یزیدیوں کو دور بھگایا۔ 5 بجے ملیشیا کی طرف سے توپ کے گولے داغے گئے۔ لیکن وہ بھی ہمارے مورچوں کے نزدیک گرے۔

مورخہ 13/12/2011 آج شلوزان اور پیواڑ کے علاقوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کیں۔ یہ انتظام پی اے کرم نے محرم الحرام کیلئے کیا تھا۔ آج شلوزان کے مشران پی اے کرم سے ملے اُسے بتایا گیا۔ کہ ہیلی کا پٹر ٹل میں بیٹھتے ہیں۔ حادثے کی صورت میں جب وہ ٹل سے پرواز کر کے شلوزان پہنچتے ہیں۔ تو اسمیں کم از کم نصف گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ اور شر پسند بھاگنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بہتر ہوگا۔ کہ وہ پارا چنار میں رہیں۔ اور دہشت گردی کے خلاف فوری کاروائی کریں۔ پی اے نے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا۔ کم سن شہداء کو چالیس چالیس ہزار روپے فی کس اور زخمیوں کو بیسں ہزار روپے فی کس دینے کا وعدہ بھی کیا۔ جو سیکرٹری انجمن کی ذریعے دیئے گئے۔ 

شلوزان میں چھاپہ مارحملوں (مارٹروں اور میزائل حملوں ) سے نمٹنے کیلئے لقمان خیل سے خیواص کی سرحدات تک تقریبا دو ہزار نو جوان بلند ترین چوٹیوں پر متعین کے گئے۔ جو شدید ترین سردی میں چار دنوں سے وہاں کمر بستہ تیار کھڑے تھے۔ امام بارگا ہوں میں حسب معمول مجالس عزا بر پا ہوتے رہے۔ جلوس شب عاشورا اور ذوالجناح روانی جوش و خروش کے ساتھ بخیریت اختتام پذیر ہوئے۔

مورخہ 17/12/2011 روز عاشورا تمام کرم ایجنسی خصوصاً پارا چنار ، شلوزان اور پیواڑ میں سابقہ روایات کے تحت عزت و احترام سے منایا گیا۔ پاراچنار میں علمدار فیڈریشن اور پاسداران حسین نے شب وروز ایک کر کے ڈیوٹی دی۔ انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی یوسف حسین م اراکین انجمن ، حاجی حامد حسین صدر فیڈ ریشن حاجی رووف حسین ، حاجی اسحٰق حسین اور ارباب حسین بھی 24 گھنٹے ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے۔

                    کوه سفید کی بلند چوٹیوں پر عزاداری و زنجیر زنی 


شلوزان میں تقریباً دو ہزار نوجوانوں نے بلند ترین چوٹیوں پر پانچ رات گزارے اور یزیدیوں کے ارادے خاک میں ملادیئے۔ انہوں نے یزیدیوں سے دست بدست جنگ کی۔ اور انکو در و بھگایا۔ اُن میں سے ایک ہلاک یا زخمی بھی ہوا۔ جسے اُٹھا کر وہ بھگا لے گئے۔ بعض عقیدت مندوں نے بغیر سحری و افطار کے خشک روٹی اور چنوں کے ساتھ روزے بھی رکھے۔ اور غیرت مند حسینی جوانوں نے عزاداری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے بلند و بالا چوٹیوں پر زنجیر زنی کی اور فسٹ ایڈ ، مرہم پٹی اور گولیوں کے بغیر خون میں لت پت گھر آئے۔

                                          کربلائے پاراچنار جلد دوم 

                           پروفیسر حاجی عابس حسین عابس بنگش