مورخہ 2011 شلوزان جنگ میں کوہ سفید پر عزاداری
مورخہ 2010 جنگ میں خیواص کا پسِ منظر
خیواص شلوزان تنگی میں شمال مغربی حصے میں واقع خوبصورت ، پر امن اور ایک دلکش بستی تھی۔ جہاں باقرخیل بنگش قبیلہ سینکڑوں سال سے آباد تھا۔ تقریبا 150 گھرانوں پر مشتمل یہ خوبصورت گاؤں لذیذ میوؤں اور باغات کیلئے مشہور تھا۔ یہاں میوے اس وقت پک جاتے جب ایجنسی میں میوؤں کا خاتمہ ہو جاتا۔ یہاں کے اخروٹ ، خرمانی ، آلوچے اور سیب نہایت لذیذ اور دیدہ زیب تھے۔
یہاں کے باشندے نہایت غریب اور سیدھے سادہ تھے۔ جلانے کی لکڑی کی فروخت اور ملیشیا میں ملازمت پر گزارہ کرتے تھے۔ یہاں بہت سے افراد زیر تعلیم سے آراستہ ہوئے تھے۔ اور سکولوں میں معلمین کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ خیواص چاروں طرف سے منگل قبیلے کی آبادی میں گھرا ہوا تھا۔ لیکن از قدیم الایام ان کے منگلوں سے اچھے تعلقات تھے۔ جب بھی شلوزان اور منگلوں کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوتا تو خیواص کے مشران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ، اور معاملے کوحل کر دیتے۔ 2007 ء یا نومبر 2008 ء کے فسادات میں یہ علاقہ اپنے بہتر تعلقات کی وجہ سے محفوظ رہا۔ لیکن یہاں کے غریب ، غیرتمند اور بہادر جوان دشمن کے مقابلے کیلئے ہمہ تن تیار تھے۔ خیواص کو کیوں جلایا گیا ؟ اور کیسے جلایا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ میں تو یہ لکھتے کوئی خوف محسوس نہیں کرونگا کہ یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ طالبانائزیشن کی ایجنسی میں گرفت مضبوط کی۔ تو شلوزان تنگی اور پیواڑ تنگی ان کے بڑے مرکز رہے۔ ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی خیواص تھا۔ جو ان کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا۔ اسی غرض سے کرم ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر نے شلوزان تنگی کا دورہ کرکے وہاں شب باش بھی ہوئے۔ اور حالات کا خود جائزہ لیا۔ اس واقعے کے کچھ سیاسی مقاصد بھی تھے۔ جو مختلف ممالک کے اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ نیٹ میں اور کربلائے پاراچنار کتاب میں موجود ہے میں اسکو یہاں اس لئے نہیں لکھوں گا پھر بہت لمبا ہو جائے گا۔ اگر کوئی اس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو کربلائے پاراچنار کتاب پڑھ لیں۔
سینکڑوں سال بعد خیواص جو امن کا گہوارہ تھا۔ اور جہاں کے غریب باشندے امن کی زندگی گزار رہے تھے کے حالات اچانک کیوں خراب ہوئے۔ اسکی بڑی وجہ طالبان کا یہ علاقہ جو انکے لئے رکاوٹ تھا۔ درمیان سے نکالنا تھا۔ اور اسکو اپنا مرکز بنانا تھا۔ انہوں نے خیواص کو درمیان سے نکالنے کیلئے مقامی منگلوں کے ساتھ مذکرات کئے۔ انکوفورس اور اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدے کئے۔ خیواص کے مظلوم عوام نے جلد محسوس کیا۔ کہ حالات کارخ تبدیلی اختیار کر رہا ہے۔ وہ چوکنے ہوئے اور اپنے علاقے کی حفاظت کیلئے کمر بستہ تیار ہوئے۔ ہوا یوں کہ منگلوں نے مورخہ 4 ستمبر 2010ء کو اچانک خیواص کے دو گھرانوں جو خیواص سے چند کلومیٹر جنوب کی طرف اسماعیل میلہ کے قریب رہتے تھے ان پر اچانک حملہ کر دیا۔ گھروں کے مالک صوبیدار جان حسین اور صوبیدار ہدایت حسین کے ان سے اچھے تعلقات تھے۔ بلکہ قرآن پر قسم کھا کر انکے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن منگلوں نے نہ قرآن کی پروا کی اور نہ معاہدے کی۔ دونوں گھرانوں پر بھاری ہتھیار آر آر میزائیل وغیرہ سے یلغار کی۔ مکانات کی چھتیں بیٹھ گئیں ان میں آگ لگ گئی گلاب حسین اور جان حسین کا بیٹا امین حسین شہید اور صوبیدار جان حسین شدید زخمی ہوئے۔ لیاقت حسین جو ان کی حفاظت کیلئے شلوزان سے گئے تھے اور ان کے رشتہ دار تھے بھی شہید ہوئے۔ تین دن بعد اسکی لاش نکالی گئی۔ لیاقت حسین ایک تعلیم یافتہ جوان تھے۔ بڑے بہادر ، دلیر اور باہمت انسان تھے۔ مذہبی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ شہادت اس کا نصب العین تھا۔ اور آخر بہادری اور دلیری سے رائفل چلاتے ہوئے آخری گولی تک دشمنوں کے عزائم کو نا کام بنانے کیلئے لڑتے رہے۔ آخر وہ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے اور جاودان زندگی حاصل کی۔ یزیدیوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ وحشی درندوں کی طرح حملے کرتے رہے۔ اور آخر کار مظلوم اور مجبور خیواصیوں کو نشانہ بنایا۔ ان پر بھر پور طاقت کے ساتھ حملہ کیا۔ بہادر حسینیؑ لشکر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا تھا۔ لیکن مخالف سمت سے ایک منٹ میں ایک ہزار مارٹر لانچرز اور آر آر کے گولے گرتے تھے۔ اور خیواص ہولناک منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ہر طرف شہداء کی لاشیں پڑی تھیں۔ اور جو زندہ تھے وہ برابر مشینیں چلا رہے تھے۔ لیکن دشمن کی تعداد اور گرتے ہوئے گولے ان سے ہزار گناہ زیادہ تھے۔ وہ آخری دم تک لڑے اور پیچھے ہٹنے کا نام نہ لیا۔ حتیٰ کہ سب ابدی نیند سو گئے۔ یزیدی لشکر پورے زور اور قوت کے ساتھ خیواص میں داخل ہوا۔ اور کربلا کے یزیدیوں کی یاد تازہ کر دی۔ لیکن کربلا والوں کے نقوش قدم پر گامزن حسینیؑ اب سوئے ہوئے تھے۔بقول شاعر
مل رہے ہیں کربلا والوں سے یہ دونوں سبق کیا
کیا بچانا چاہیئے اور کیا لٹانا چاہیئے
وقت شہادت تک خط کربلا پر چلنے والے حسینیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انکے دل اسوہ وقت شہادت تک خط کر بلا پر چلنے والے حسینیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انکے دل اسوہ حسینی سے منور تھے اور ان کے افکار نے کربلا سے فیضان حاصل کیا تھا۔ لیکن ان کی مظلوم لاشوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا۔ جو کربلا کے میدان میں حسینؑ کے مظلوم ساتھیوں سے کیا گیا تھا۔ وہاں ان کی لاشیں پائمال ہوئی تھیں۔ تو کربلائے خیواص کی لاشوں کو بری طرح مسخ کیا گیا۔ تیز دھار کلہاڑیوں اور چھریوں سے ان کو ٹکڑے ٹکڑےکردیا۔ اور بے گور و کفن لاشوں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور ان پر بڑے بڑے پتھر ڈال دیئے۔ یزیدی لشکر جب خیواص میں داخل ہوا۔ تو پہلے امام بارگاہ کو آگ لگادی۔ علم عباسؑ کو آگ لگا دی اور گہوارہ علی اصغرؑ کو جلا دیا۔ یادگار کربلا سب راکھ میں تبدیل ہوئے اور ظالم دہشت گرد چلتے کودتے اور چلاتے رہے۔ شلوزان تنگی کی فتح کے دوران ہمارے مجاہدوں کو سی ڈیز ملے۔ ان میں ایک خیواص کے جلانے کی سی ڈی بھی تھی۔ جسے سب نے دیکھ لیا۔ اسی سی ڈی کے مطابق جب وہ خیواص میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ایک شمر ذی الجوشن کا بیٹا زور زور سے چلاتا ہے۔ فلاں کیا یہ خیواص ہے؟ یہی خیوص ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں یہ خیواص ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لگاؤ آگ امام باڑے کو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظر دیا۔ اور بے گور و کفن لاشوں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور ان پر بڑے بڑے پھر ڈال دیئے ۔ یزیدی لشکر جب خبوص میں داخل ہوا۔ تو پہلے امام بارگاہ کو آگ لگادی۔ علم جہان کو آگ لگا دی اور گہوار وعلی اصغر کو جلا دیا۔ یادگار کر با اسب راکھ میں تبدیل ہوئے اور ظالم دہشت گرد چلتے کودتے اور چلاتے رہے۔ شلوزان جنگی کی فتح کے دوران ہمارے مجاہدوں کو سی ڈیز ملے۔ ان میں ایک خیوص کے جلانے کی ڈی بھی تھی ۔ جسے سب نے دیکھ لیا۔ اسی سی ڈی کے مطابق جب وہ فیوس میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ایک شمر ذی الجوشن کا بیٹاز ورزور سے چلاتا ہے۔ فلاں کیا یہ خیوص ہے؟ یہی خیوص ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں یہ خیوس ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لگاؤ آگ امام باڑے کو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظر حسین کے مانے والوں کے لئے نہ دیکھنے کے قابل ہیں۔ اور نہ ان سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا صرف ایک دن انکے تقریباً تین سو گھرانوں سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے پونے چار گھنٹوں میں تقریباً پندرہ دیہات صفہ ہستی مٹ گئےحسینی" جانباز خیواص میں داخل ہوئے اور ٹکڑےٹکڑے لاشوں کو نکال کر پاراچنار لے کے آئے۔
پروفیسر حاجی عابس حسین عابس
مورخہ 2011 میں شلوزان مجلس عزداری پر ماٹر اور میزائل کے گولے اور کوہ سفید کا تفصیل
مورخہ 12/12/2011 آج محرم کی پانچویں تاریخ تھی۔ شلوزان میں مجالس دو بجے سے شروع ہوتے ہیں۔ مولانا حسین الاصغر صاحب تقریر کر رہے تھے۔ کہ یزیدیوں کی طرف سے مارٹر کے گولے گرنے شروع ہو گئے۔ ایک گھر کے تین کم سن بچے خیال حسین ، مہدی حسین ، اور شباب حسین شہید اور اصغر حسین عرف بھٹو سمیت تین افراد شدید زخمی ہوئے۔ جنکو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پھول جیسے خوبصورت بچے سینہ کوبی کرتے ہوئے امام باڑہ کیطرف روان تھے۔ کہ ظالموں نے ان نازک کلیوں کو کھلنے نہیں دیا۔ اور انکے نازک اعضاء کے ٹکڑے زمین پر بکھیر دئیے۔ وقفے وقفے سے گولے گرتے رہے کل چودہ گولے گرائے گئے۔ جن میں زیادہ گولے زنانہ امام بارگاہ کے نزدیک گرے۔ عزاداری امام حسین کو جاری رکھا گیا۔ اور امام باڑہ نعرہ حیدری اور حسینیت زندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ مولانا صاحب نے اسی مناسبت سے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا۔ کہ بنی اُومیہ اور بنی عباس کے دور میں لوگوں کے ہاتھ ، پاؤں اور زبان کاٹے گئے۔ لیکن زیارت امام حسین اور عزاداری بند نہیں ہوئی۔ چودہ سو سال سے یہ سلسلہ جاری رہا۔ اور تا قیامت جاری رہیگا۔ ذاکرین حسین منتظر حسین اور سیلاب حسین نے بھی اسی مناسبت سے نظم سنائی۔ جو انکی شیرین زبانی اور بچوں کی اندوہناک شہادت کی وجہ سے نہایت پر اثر رہی۔ نوجوانان دسته جناب علی اکبر فورا مسلح ہو کر پہاڑ کی بلند چوٹیوں پر پہنچے۔ اور جوابی کاروائی کر کے یزیدیوں کو دور بھگایا۔ 5 بجے ملیشیا کی طرف سے توپ کے گولے داغے گئے۔ لیکن وہ بھی ہمارے مورچوں کے نزدیک گرے۔
مورخہ 13/12/2011 آج شلوزان اور پیواڑ کے علاقوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کیں۔ یہ انتظام پی اے کرم نے محرم الحرام کیلئے کیا تھا۔ آج شلوزان کے مشران پی اے کرم سے ملے اُسے بتایا گیا۔ کہ ہیلی کا پٹر ٹل میں بیٹھتے ہیں۔ حادثے کی صورت میں جب وہ ٹل سے پرواز کر کے شلوزان پہنچتے ہیں۔ تو اسمیں کم از کم نصف گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ اور شر پسند بھاگنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بہتر ہوگا۔ کہ وہ پارا چنار میں رہیں۔ اور دہشت گردی کے خلاف فوری کاروائی کریں۔ پی اے نے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا۔ کم سن شہداء کو چالیس چالیس ہزار روپے فی کس اور زخمیوں کو بیسں ہزار روپے فی کس دینے کا وعدہ بھی کیا۔ جو سیکرٹری انجمن کی ذریعے دیئے گئے۔
شلوزان میں چھاپہ مارحملوں (مارٹروں اور میزائل حملوں ) سے نمٹنے کیلئے لقمان خیل سے خیواص کی سرحدات تک تقریبا دو ہزار نو جوان بلند ترین چوٹیوں پر متعین کے گئے۔ جو شدید ترین سردی میں چار دنوں سے وہاں کمر بستہ تیار کھڑے تھے۔ امام بارگا ہوں میں حسب معمول مجالس عزا بر پا ہوتے رہے۔ جلوس شب عاشورا اور ذوالجناح روانی جوش و خروش کے ساتھ بخیریت اختتام پذیر ہوئے۔
مورخہ 17/12/2011 روز عاشورا تمام کرم ایجنسی خصوصاً پارا چنار ، شلوزان اور پیواڑ میں سابقہ روایات کے تحت عزت و احترام سے منایا گیا۔ پاراچنار میں علمدار فیڈریشن اور پاسداران حسین نے شب وروز ایک کر کے ڈیوٹی دی۔ انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی یوسف حسین م اراکین انجمن ، حاجی حامد حسین صدر فیڈ ریشن حاجی رووف حسین ، حاجی اسحٰق حسین اور ارباب حسین بھی 24 گھنٹے ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے۔
کوه سفید کی بلند چوٹیوں پر عزاداری و زنجیر زنی
شلوزان میں تقریباً دو ہزار نوجوانوں نے بلند ترین چوٹیوں پر پانچ رات گزارے اور یزیدیوں کے ارادے خاک میں ملادیئے۔ انہوں نے یزیدیوں سے دست بدست جنگ کی۔ اور انکو در و بھگایا۔ اُن میں سے ایک ہلاک یا زخمی بھی ہوا۔ جسے اُٹھا کر وہ بھگا لے گئے۔ بعض عقیدت مندوں نے بغیر سحری و افطار کے خشک روٹی اور چنوں کے ساتھ روزے بھی رکھے۔ اور غیرت مند حسینی جوانوں نے عزاداری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے بلند و بالا چوٹیوں پر زنجیر زنی کی اور فسٹ ایڈ ، مرہم پٹی اور گولیوں کے بغیر خون میں لت پت گھر آئے۔
کربلائے پاراچنار جلد دوم
پروفیسر حاجی عابس حسین عابس بنگش
مورخہ 2010 میں شلوزان اور تنگی کے درمیان جنگ کا تفصیل ، کربلائے پاراچنار جلد دوم
منگلوں نے اپنی دیربینہ روایات کو برقرار رکھنے کیلئے گزشتہ مہینے شلوزان اور دراوی کے پائپ لائنز اور ندیاں کاٹ دی تھیں۔ حکومت انکو بحال کرنے میں ناکام ہوئی تھی۔ اور منگل پھر اپنے مطالبات منوانے پر زور دے رہے تھے۔ تاہم شلوزان والوں نے امن کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اور کوئی جوابی کاروائی نہیں کی۔ آخیر ہوا یوں کہ مورخہ 3/9/2010 پر انہوں نے شلوزان درہ (ایک چھوٹا گاؤں) پر حملہ کر دیا۔ لیکن وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اور انکا حملہ پسپا کیا گیا۔
مورخہ 4/9/2010 پر انہوں نے تتقی کوٹہ کے گاؤں میں واقع صوبیدار جان حسین اور صوبیدار ہدایت حسین آف خیواص کے گھر پر ہلہ بول دیا۔ لانچر ۔ آر آر اور پچھتر کے گولیاں استعمال کیں۔ جن سے مکان کی چھت بیٹھ گئی۔ اور مکان میں آگ لگ گئی۔ مکان میں بیٹھے ہوئے چار یا پانچ افراد نے مردانہ وار مقابلہ کیا۔ تا ہم امین حسین ولد صو بیدار جان حسین ، لیاقت حسین ولد حاجی عمران علی اور گلاب حسین شہید ہوئے۔ صوبیدار جان حسین مع دو بچوں کے شدید زخمی ہوئے۔ بڑی مشکل سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالا گیا۔ تاہم شلوزان کے بہادر سپوت اور تعلیم یافتہ جوان لیاقت حسین کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ جسے دو دن بعد نکالا گیا۔
تکبر اور غرور کے گھمنڈ میں مست دہشت گردوں نے مورخہ 5/9/2010 پر خیواص پر حملہ کر دیا۔ خیواص والوں کی تعداد کم تھی۔ اُن پر حملہ چاروں اطراف سے کیا گیا۔ اور بڑے ہتھیاروں مثلا آر آر پچھتر اور میزائلوں کی بارش کی گئی۔ لیکن ان غریب غیور بہادروں نے انکے قدم آگے نہ بڑھنے دیئے۔ اسی دن دراوی کا ایک سید شہید ہوا۔ 6/9/2010 پر منگلوں نے ایک اہم مورچے شڑ شمو سر پر قبضہ کیا۔ جس سے خیواص کے رسد کے راستے بند ہوئے ۔ شلوزان ، دراوی اور علی شاری کے جوانوں نے جوابی کاروائی کی۔ تین دن شدید جنگ ہوئی۔ اس دوران طوری اقوام کے بہادروں کی کمک بھی پہنچ گئی۔۔
مورخہ 9/9/2010 کو فیصلہ کن جنگ کا فیصلہ ہوا منگلوں نے مورچہ خالی کرایا۔ لیکن اس میں ہمارے چار جوان شہید ہوئے۔ جن میں ایک پیواڑ ایک شینگک ایک یعقوبی اور ایک خواجہ کوٹ کا تھا۔
مورخہ 8/9/2010 پر درہ کے مقام پر راقم الحروف (پروفیسر عابس حسین) کا چچازاد بھائی وقار حسین ولد کربلائی جواد حسین بھی شہید ہوا ( اسی دن میں پشاور سے آیا۔ کتاب کی چھپائی کے سلسلے میں گیا تھا۔ ( شہید کا ایک بھائی امجد حسین بھی کچھ عرصہ پہلے شہید ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ منگلوں کی لاشوں سے مورچہ بھرا پڑا تھا۔ بھاری اسلحہ بھی ان سے قبضہ کیا۔
مورخہ9/9/2010 منگلوں نے شلوزان لرزر ، دراوی اور علی شاری پر ماٹروں اور میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی۔ صوبیدار میر غلام کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شدید زخمی ہوئیں۔ واضح رہے کہ صوبیدار صاحب کا ایک بیٹا پہلے بھی شہید ہوا تھا۔
مورخہ 10/9/2010 پر میزائلوں اور ماٹروں کی بارش سے شلوزان کے گنجان آباد گاؤں کے کئی مکانات ، مقامات مقدسہ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ لیکن اس سے علاقے کے بوڑھوں ، بچوں اور جوانوں کے عزائم اور حوصلوں میں فرق نہیں آیا اور نہ کوئی جانی نقصان ہوا۔
امام زمانؑ ہماری مدد کرتے رہے۔ اور میزائیل خالی جگہوں پر گرتے رہے۔ 11/9 عیدالفطر کا دن تھا۔ منگلوں نے مرکزی امام باڑہ و شلوزان کو تارگٹ بنایا۔ اور شلوزان پر پچاس کے قریب میزائیل اور مارٹر کے گولے گرائے۔ معروف شخصیت سید اکبر جان کی بیوی اور سید گلفام حسین کی والدہ شہید اور اسکا بیٹا سید اصغر جان شدید زخمی ہوا۔ زیادہ گولے کھیتوں اور باغوں میں گرے۔ لیکن حکومت خاموش رہی۔
مورخہ 13/9/2010 حکومت نے ایئر پورٹ پر توپیں نصب کیں۔ وہاں سے مورچوں پر فائرنگ کی۔ اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی ہمارے مورچوں پر شیلنگ کی۔ اور مشران قوم کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کے بعد ہم نے مورچے خالی کرائے۔ اور اسلحہ واپس لے آئے۔ دونوں طرف ملیشیا کوڈ پلائیڈ (تعینات) کیا۔ ہمارے مورچے خالی ہوئے۔ تو منگلوں نے خیواص پر حملہ کر دیا۔
مورخہ 14/9/2010 منگلوں کی کمینگی حد سے تجاوز کرگئی۔ 2 ماہ سے پانی کی بندش اور خیواص پر حملے کے بعد انہوں نے مزید تجاوز شروع کیا۔ اور روز روز کمینہ پن کا ثبوت دیتے رہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ کہ کوئی بیرونی طاقت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اس بات کا دوسرا ثبوت یہ ہے۔ کہ یہ لوگ روزانہ لاکھوں روپوں کا ایمونیشن خراب کرتے ہیں۔ یہ کہاں سے لاتے ہیں؟ آخیر مجبور ہوکر مرکز کی غیور اور دلیر قیادت نے ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کر دیا۔ جونہی ہم نے عملی جامہ پہنانے کی نیت کی۔ کمانڈنٹ کرم ملیشیا کی طرف سے ہمارے مورچوں پر توپوں سے گولہ باری شروع کی۔ حالانکہ عید کے دن منگلوں کی طرف سے بھی تقریباً پچاس گولے گرے۔ لیکن کمانڈنٹ صاحب خاموش رہے۔ کمانڈنٹ کی اس حرکت کے بعد ہمارا یہ پروگرام ناکام ہوا۔ آج ہمارے چار جانباز زخمی ہوئے۔ ملیشیا کی گولہ باری سے بھی چارافراد زخمی ہوئے۔
مورخہ 14/9/2010 شلوزان میں جنگ جاری رہی۔آج چھ سات مارٹر کے گولے گرے۔ پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ میں ایک اجلاس ہوا۔ ہر قوم سے دو دو افراد کی ایک کمیٹی بنائی گئی۔ تا کہ حکومت اور اہلسنت کے ساتھ مذاکرات کرے۔ رات کو حکومت نے توپ کے پانچ گولے گرائے۔ جن میں سے چار ہمارے مورچوں پر گرے۔
مورخہ 15/9/2010 جنگ نے شدت اختیار کی۔ رات کو خیواص پر چار اٹیک ( حملے ) ہوئے۔ جسکو ناکام بنا دیا گیا۔ ہمارے چھ افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ جبکہ دشمن کی اموات کی تعداد کئی گنا زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ہمارے شہداء میں کراحیلہ اور خیواص کے افراد شامل ہیں۔
خیواص جل رہا ہے
بمورخہ 16/9/2010 آج جوش و خروش اور جذبات کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ آغا صاحب خود شلوزان آئے پر جوش تقریر کی۔ سیکرٹری انجمن حسینیہ کیپٹن حاجی یوسف حسین اور اراکین انجمن کئی دنوں سے دن رات ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ فیڈریشن کے جوان ہمہ تیار کھڑے تھے۔ شلوزان کے مشران اور جوان دشمن کے مقابلے کیلئے مستعد و تیار تھے۔ اور دشمن پر بھر پور حملہ کرنے گھروں سے نکلے تھے۔ طوری قوم کے غیور فرزند سینکڑوں کی تعداد میں خیواص کے مظلوم بھائیوں کی مدد کیلئے آئے تھے۔ شدید ترین جنگ ہوئی۔ لقمانخیل کی طرف سے شلوزان ، درادی اور لرزر نے حملہ کیا۔ اور علی شاری چار بجگان کی نگرانی کر رہے تھے۔ منگلوں کے تین دیہات جلائے گئے۔ اس محاذ پر ہمارے بہادر نو عمر جوان عجائب حسین اور جاوید حسین جام شہادت نوش کر گئے۔ آٹھ زخمی بھی ہوئے ۔ جبکہ حیواص کے محاذ پر جنگل کے وحشی درندے ہزاروں کی تعداد میں بھاری اسلحہ سے لیس مجبور اور غریب" خیواصیوں پر ٹوٹ پڑے۔ اُن پر چاروں اطراف سے گولہ باری شروع کی۔ "ہائے خیواص جل گیا" "یادگار جگر گوشہ زہراء سلام اللہ علیہا " امام بارگاہ جل گیا، علم علمدارؑ حسینؑ جل گیا۔ اور گہوارہ شہزادہ علی اصغرؑ کو بھی جلا دیا۔ کل یوم عاشورا اور کل ارض کربلا آج خیواص پھر کربلا بنا آج اسکی مٹی کربلائے پاراچنار کے شہیدوں سے بھری پڑی تھی۔ آج خیواص کی سرزمین بے گناہ بوڑھوں بچوں کے خون سے سرخ تھی۔ آج پھر کربلا زندہ ہے۔
متعدد افراد شہید ہوئے خیواص یزیدیوں کے قبضے میں رہا شہداء کی لاشیں بھی انکے قبضے میں رہیں۔ لاشوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جو یزیدیوں نے کربلا میں کیا تھا۔ پانچ شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔ جن کا تعلق بغدی ، کراخیلہ وغیرہ سے تھا۔ حکومت کی گولہ باری جاری رہی۔ جس سے خیواص میں آگ لگ گئی۔ مرکز کے قائدین پوری طرح الرٹ تھے۔ اور جنگ کی نگرانی خود کی اور ساری رات جاگے رہے۔ ٹی وی کی اطلاع کے مطابق دونوں اطراف سے 136 ہلاک اور 116 زخمی ہوئے۔ 17/10 کل رات آٹھ جنازے نکالے گئے۔ چار زندہ اور 2 زخمی بھی نکالے آج جر گہ آیا۔ لاشوں کو نکالنے کیلئے سیس فائر کرنے کے باوجود انہیں اندر نہ جانے دیا گیا۔ ملیشیا نے جوابی کاروائی نہیں کی۔ کچھ دیر بعد ملیشیا کے جوان واپس ہوئے۔ اور پیواڑ کے راستے خیواص جانے کی کوشش کی۔ لیکن وحشی درندوں نے ان کو جانے نہیں دیا۔ اور اُن پر فائرنگ کرتے رہے۔
غرور کا سر نیچا
مورخہ 18/9 منگلوں کے تکبر کو خاک میں ملانے کا دن
آج کا دن تاریخی اہمیت کا دن ہے۔ مظلوم حسینیوں کے مکانات سے دھواں اُٹھ رہا ہے۔ جو پاراچنار سے بھی نظر آ رہا ہے۔ اُن کی ٹکڑے ٹکڑے لاشیں زمین پر پڑی ہیں۔ بیرونی مدد حاصل کرنے والے " متکبر "خوشی کے فائرنگ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف حسینیوں کی غیرت جوش میں آئی ہے۔ اور جوق در جوق شلوزان پہنچ رہے ہیں۔ اور یزیدیوں سے بدلہ لینے اور لاشوں کو نکالنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ جوان تو جوان چھوٹے بچے بھی عون و محمد کا راستہ اپنانے کیلئے ہاتھوں میں بندوق تھامے ہوئے نکلے ہیں۔ رات کو مرکزی امام بارگاہ دراوی میں غیرت اور بہادری کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا شور عجیب منظر پیش کر رہا ہے۔ سب حسینی اپنے مظلوم بھائیوں کی بے گور و کفن لاشیں دل کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اور انکے دل جلد جانے کیلئے بے قرار ہیں اُنکے دستوں کو ترتیب دے گئی۔ اور جانے کا حکم ملا پھر کیا تھا۔ شاہینوں کی طرح حملے کئے۔ سارے پہاڑ پر گولہ باری شروع ہوئی۔ پونے چار گھنٹوں میں 14 دیہات کے 300 گھرانے جلائے گئے۔ اور 50 مورچوں پر قبضہ کیا گیا۔ اُنکو طالبان سے مفت ملنے والا اسلحہ ان شاہینوں کے ہاتھ لگا۔ پوری ایجنسی میں چھوٹے بڑے، بوڑھے جوان ، مرد و خواتین جاگے تھے۔ اور آگ کے شعلے دیکھ رہے تھے۔ "خیواص دوبارہ قبضہ ہوا" مظلوم شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔ اور 15 کو زندہ نکالا گیا۔ جو بھوک اور زخموں سے نڈھال تھے۔ " آخر دشمن کا غرور خاک میں مل گیا اور وہ جنگل میں بھاگ کر جان بچانے لگے۔ ساری رات اپر کرم میں جشن کا سماں تھا۔ چھوٹے بڑے ساری رات جاگے رہے۔ متکبر منگلوں (خوار کبرجن ) کا غرور آج مٹ گیا۔ طالبان کہ ان کو شلوزان فتح کرنے کے طعنے دے رہے تھے۔ وہ خود اپنے گھروں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور اس طرح ہمارے آباؤ و اجداد نے جو تحم بویا تھا۔ انکے نواسوں نے جڑ سے نکال دیا۔
مورخہ 19/9/2010 کو حیواص سے 32 شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔






