مورخہ 2010 میں شلوزان اور تنگی کے درمیان جنگ کا تفصیل ، کربلائے پاراچنار جلد دوم

 


شلوزان جنگ اور سانحہ حیواص

منگلوں نے اپنی دیربینہ روایات کو برقرار رکھنے کیلئے گزشتہ مہینے شلوزان اور دراوی کے پائپ لائنز اور ندیاں کاٹ دی تھیں۔ حکومت انکو بحال کرنے میں ناکام ہوئی تھی۔ اور منگل پھر اپنے مطالبات منوانے پر زور دے رہے تھے۔ تاہم شلوزان والوں نے امن کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اور کوئی جوابی کاروائی نہیں کی۔ آخیر ہوا یوں کہ مورخہ 3/9/2010 پر انہوں نے شلوزان درہ (ایک چھوٹا گاؤں) پر حملہ کر دیا۔ لیکن وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اور انکا حملہ پسپا کیا گیا۔

مورخہ 4/9/2010 پر انہوں نے تتقی کوٹہ کے گاؤں میں واقع صوبیدار جان حسین اور صوبیدار ہدایت حسین آف خیواص کے گھر پر ہلہ بول دیا۔ لانچر ۔ آر آر اور پچھتر کے گولیاں استعمال کیں۔ جن سے مکان کی چھت بیٹھ گئی۔ اور مکان میں آگ لگ گئی۔ مکان میں بیٹھے ہوئے چار یا پانچ افراد نے مردانہ وار مقابلہ کیا۔ تا ہم امین حسین ولد صو بیدار جان حسین ، لیاقت حسین ولد حاجی عمران علی اور گلاب حسین شہید ہوئے۔ صوبیدار جان حسین مع دو بچوں کے شدید زخمی ہوئے۔ بڑی مشکل سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالا گیا۔ تاہم شلوزان کے بہادر سپوت اور تعلیم یافتہ جوان لیاقت حسین کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ جسے دو دن بعد نکالا گیا۔

تکبر اور غرور کے گھمنڈ میں مست دہشت گردوں نے مورخہ 5/9/2010 پر خیواص پر حملہ کر دیا۔ خیواص والوں کی تعداد کم تھی۔ اُن پر حملہ چاروں اطراف سے کیا گیا۔ اور بڑے ہتھیاروں مثلا آر آر پچھتر اور میزائلوں کی بارش کی گئی۔ لیکن ان غریب غیور بہادروں نے انکے قدم آگے نہ بڑھنے دیئے۔ اسی دن دراوی کا ایک سید شہید ہوا۔ 6/9/2010 پر منگلوں نے ایک اہم مورچے شڑ شمو سر پر قبضہ کیا۔ جس سے خیواص کے رسد کے راستے بند ہوئے ۔ شلوزان ، دراوی اور علی شاری کے جوانوں نے جوابی کاروائی کی۔ تین دن شدید جنگ ہوئی۔ اس دوران طوری اقوام کے بہادروں کی کمک بھی پہنچ گئی۔۔

مورخہ 9/9/2010 کو فیصلہ کن جنگ کا فیصلہ ہوا منگلوں نے مورچہ خالی کرایا۔ لیکن اس میں ہمارے چار جوان شہید ہوئے۔ جن میں ایک پیواڑ ایک شینگک ایک یعقوبی اور ایک خواجہ کوٹ کا تھا۔

مورخہ 8/9/2010 پر درہ کے مقام پر راقم الحروف (پروفیسر عابس حسین) کا چچازاد بھائی وقار حسین ولد کربلائی جواد حسین بھی شہید ہوا ( اسی دن میں پشاور سے آیا۔ کتاب کی چھپائی کے سلسلے میں گیا تھا۔ ( شہید کا ایک بھائی امجد حسین بھی کچھ عرصہ پہلے شہید ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ منگلوں کی لاشوں سے مورچہ بھرا پڑا تھا۔ بھاری اسلحہ بھی ان سے قبضہ کیا۔

 مورخہ9/9/2010 منگلوں نے شلوزان لرزر ، دراوی اور علی شاری پر ماٹروں اور میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی۔ صوبیدار میر غلام کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شدید زخمی ہوئیں۔ واضح رہے کہ صوبیدار صاحب کا ایک بیٹا پہلے بھی شہید ہوا تھا۔

مورخہ 10/9/2010 پر میزائلوں اور ماٹروں کی بارش سے شلوزان کے گنجان آباد گاؤں کے کئی مکانات ، مقامات مقدسہ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ لیکن اس سے علاقے کے بوڑھوں ، بچوں اور جوانوں کے عزائم اور حوصلوں میں فرق نہیں آیا اور نہ کوئی جانی نقصان ہوا۔

امام زمانؑ ہماری مدد کرتے رہے۔ اور میزائیل خالی جگہوں پر گرتے رہے۔ 11/9 عیدالفطر کا دن تھا۔ منگلوں نے مرکزی امام باڑہ و شلوزان کو تارگٹ بنایا۔ اور شلوزان پر پچاس کے قریب میزائیل اور مارٹر کے گولے گرائے۔ معروف شخصیت سید اکبر جان کی بیوی اور سید گلفام حسین کی والدہ شہید اور اسکا بیٹا سید اصغر جان شدید زخمی ہوا۔ زیادہ گولے کھیتوں اور باغوں میں گرے۔ لیکن حکومت خاموش رہی۔

مورخہ 13/9/2010 حکومت نے ایئر پورٹ پر توپیں نصب کیں۔ وہاں سے مورچوں پر فائرنگ کی۔ اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بھی ہمارے مورچوں پر شیلنگ کی۔ اور مشران قوم کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کے بعد ہم نے مورچے خالی کرائے۔ اور اسلحہ واپس لے آئے۔ دونوں طرف ملیشیا کوڈ پلائیڈ (تعینات) کیا۔ ہمارے مورچے خالی ہوئے۔ تو منگلوں نے خیواص پر حملہ کر دیا۔

مورخہ 14/9/2010 منگلوں کی کمینگی حد سے تجاوز کرگئی۔ 2 ماہ سے پانی کی بندش اور خیواص پر حملے کے بعد انہوں نے مزید تجاوز شروع کیا۔ اور روز روز کمینہ پن کا ثبوت دیتے رہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ کہ کوئی بیرونی طاقت ان کو ایسا کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ اس بات کا دوسرا ثبوت یہ ہے۔ کہ یہ لوگ روزانہ لاکھوں روپوں کا ایمونیشن خراب کرتے ہیں۔ یہ کہاں سے لاتے ہیں؟ آخیر مجبور ہوکر مرکز کی غیور اور دلیر قیادت نے ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کر دیا۔ جونہی ہم نے عملی جامہ پہنانے کی نیت کی۔ کمانڈنٹ کرم ملیشیا کی طرف سے ہمارے مورچوں پر توپوں سے گولہ باری شروع کی۔ حالانکہ عید کے دن منگلوں کی طرف سے بھی تقریباً پچاس گولے گرے۔ لیکن کمانڈنٹ صاحب خاموش رہے۔ کمانڈنٹ کی اس حرکت کے بعد ہمارا یہ پروگرام ناکام ہوا۔ آج ہمارے چار جانباز زخمی ہوئے۔ ملیشیا کی گولہ باری سے بھی چارافراد زخمی ہوئے۔

 مورخہ 14/9/2010 شلوزان میں جنگ جاری رہی۔آج چھ سات مارٹر کے گولے گرے۔ پاراچنار کے مرکزی امام بارگاہ میں ایک اجلاس ہوا۔ ہر قوم سے دو دو افراد کی ایک کمیٹی بنائی گئی۔ تا کہ حکومت اور اہلسنت کے ساتھ مذاکرات کرے۔ رات کو حکومت نے توپ کے پانچ گولے گرائے۔ جن میں سے چار ہمارے مورچوں پر گرے۔

مورخہ 15/9/2010 جنگ نے شدت اختیار کی۔ رات کو خیواص پر چار اٹیک ( حملے ) ہوئے۔ جسکو ناکام بنا دیا گیا۔ ہمارے چھ افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ جبکہ دشمن کی اموات کی تعداد کئی گنا زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ہمارے شہداء میں کراحیلہ اور خیواص کے افراد شامل ہیں۔


                           خیواص جل رہا ہے  


بمورخہ 16/9/2010 آج جوش و خروش اور جذبات کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ آغا صاحب خود شلوزان آئے پر جوش تقریر کی۔ سیکرٹری انجمن حسینیہ کیپٹن حاجی یوسف حسین اور اراکین انجمن کئی دنوں سے دن رات ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ فیڈریشن کے جوان ہمہ تیار کھڑے تھے۔ شلوزان کے مشران اور جوان دشمن کے مقابلے کیلئے مستعد و تیار تھے۔ اور دشمن پر بھر پور حملہ کرنے گھروں سے نکلے تھے۔ طوری قوم کے غیور فرزند سینکڑوں کی تعداد میں خیواص کے مظلوم بھائیوں کی مدد کیلئے آئے تھے۔ شدید ترین جنگ ہوئی۔ لقمانخیل کی طرف سے شلوزان ، درادی اور لرزر نے حملہ کیا۔ اور علی شاری چار بجگان کی نگرانی کر رہے تھے۔ منگلوں کے تین دیہات جلائے گئے۔ اس محاذ پر ہمارے بہادر نو عمر جوان عجائب حسین اور جاوید حسین جام شہادت نوش کر گئے۔ آٹھ زخمی بھی ہوئے ۔ جبکہ حیواص کے محاذ پر جنگل کے وحشی درندے ہزاروں کی تعداد میں بھاری اسلحہ سے لیس مجبور اور غریب" خیواصیوں پر ٹوٹ پڑے۔ اُن پر چاروں اطراف سے گولہ باری شروع کی۔ "ہائے خیواص جل گیا" "یادگار جگر گوشہ زہراء سلام اللہ علیہا " امام بارگاہ جل گیا، علم علمدارؑ حسینؑ جل گیا۔ اور گہوارہ شہزادہ علی اصغرؑ کو بھی جلا دیا۔ کل یوم عاشورا اور کل ارض کربلا آج خیواص پھر کربلا بنا آج اسکی مٹی کربلائے پاراچنار کے شہیدوں سے بھری پڑی تھی۔ آج خیواص کی سرزمین بے گناہ بوڑھوں بچوں کے خون سے سرخ تھی۔ آج پھر کربلا زندہ ہے۔

متعدد افراد شہید ہوئے خیواص یزیدیوں کے قبضے میں رہا شہداء کی لاشیں بھی انکے قبضے میں رہیں۔ لاشوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جو یزیدیوں نے کربلا میں کیا تھا۔ پانچ شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔ جن کا تعلق بغدی ، کراخیلہ وغیرہ سے تھا۔ حکومت کی گولہ باری جاری رہی۔ جس سے خیواص میں آگ لگ گئی۔ مرکز کے قائدین پوری طرح الرٹ تھے۔ اور جنگ کی نگرانی خود کی اور ساری رات جاگے رہے۔ ٹی وی کی اطلاع کے مطابق دونوں اطراف سے 136 ہلاک اور 116 زخمی ہوئے۔ 17/10 کل رات آٹھ جنازے نکالے گئے۔ چار زندہ اور 2 زخمی بھی نکالے آج جر گہ آیا۔ لاشوں کو نکالنے کیلئے سیس فائر کرنے کے باوجود انہیں اندر نہ جانے دیا گیا۔ ملیشیا نے جوابی کاروائی نہیں کی۔ کچھ دیر بعد ملیشیا کے جوان واپس ہوئے۔ اور پیواڑ کے راستے خیواص جانے کی کوشش کی۔ لیکن وحشی درندوں نے ان کو جانے نہیں دیا۔ اور اُن پر فائرنگ کرتے رہے۔


                                 غرور کا سر نیچا

مورخہ 18/9 منگلوں کے تکبر کو خاک میں ملانے کا دن

آج کا دن تاریخی اہمیت کا دن ہے۔ مظلوم حسینیوں کے مکانات سے دھواں اُٹھ رہا ہے۔ جو پاراچنار سے بھی نظر آ رہا ہے۔ اُن کی ٹکڑے ٹکڑے لاشیں زمین پر پڑی ہیں۔ بیرونی مدد حاصل کرنے والے " متکبر "خوشی کے فائرنگ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف حسینیوں کی غیرت جوش میں آئی ہے۔ اور جوق در جوق شلوزان پہنچ رہے ہیں۔ اور یزیدیوں سے بدلہ لینے اور لاشوں کو نکالنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ جوان تو جوان چھوٹے بچے بھی عون و محمد کا راستہ اپنانے کیلئے ہاتھوں میں بندوق تھامے ہوئے نکلے ہیں۔ رات کو مرکزی امام بارگاہ دراوی میں غیرت اور بہادری کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا شور عجیب منظر پیش کر رہا ہے۔ سب حسینی اپنے مظلوم بھائیوں کی بے گور و کفن لاشیں دل کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اور انکے دل جلد جانے کیلئے بے قرار ہیں اُنکے دستوں کو ترتیب دے گئی۔ اور جانے کا حکم ملا پھر کیا تھا۔ شاہینوں کی طرح حملے کئے۔ سارے پہاڑ پر گولہ باری شروع ہوئی۔ پونے چار گھنٹوں میں 14 دیہات کے 300 گھرانے جلائے گئے۔ اور 50 مورچوں پر قبضہ کیا گیا۔ اُنکو طالبان سے مفت ملنے والا اسلحہ ان شاہینوں کے ہاتھ لگا۔ پوری ایجنسی میں چھوٹے بڑے، بوڑھے جوان ، مرد و خواتین جاگے تھے۔ اور آگ کے شعلے دیکھ رہے تھے۔ "خیواص دوبارہ قبضہ ہوا" مظلوم شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔ اور 15 کو زندہ نکالا گیا۔ جو بھوک اور زخموں سے نڈھال تھے۔ " آخر دشمن کا غرور خاک میں مل گیا اور وہ جنگل میں بھاگ کر جان بچانے لگے۔ ساری رات اپر کرم میں جشن کا سماں تھا۔ چھوٹے بڑے ساری رات جاگے رہے۔ متکبر منگلوں (خوار کبرجن ) کا غرور آج مٹ گیا۔ طالبان کہ ان کو شلوزان فتح کرنے کے طعنے دے رہے تھے۔ وہ خود اپنے گھروں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور اس طرح ہمارے آباؤ و اجداد نے جو تحم بویا تھا۔ انکے نواسوں نے جڑ سے نکال دیا۔

مورخہ 19/9/2010 کو حیواص سے 32 شہداء کی لاشیں نکالی گئیں۔

                         کربلائے پاراچنار جلد دوم 
              پروفیسر حاجی عابس حسین عابس بنگش