قصیده د بي بي فاطمة الزهرا (س) شاعر روشن علی بنگش



 قصیده د بي بي فاطمة الزهرا 

چې حاصل راته په برخه سعادت ستا د مدحت دے 

چی دا مې ته ئې وسیله ځکه په ما د خدائے رحمت دے

تصور کښې مې تندے دے ستا درشل ته رسولے

 راته دغه فقيري زياته له تخت د سلطنت دے

چې کوم چاوے ځورولې د نبي حديث موجود دے

 په هغوې د خدائے عذاب دے په هغوی د خدائے لعنت دے

د رسول د خولې فرمان دے ته زما د ځان حصه ی

 څوک چې ځان امتي بولي پرې واجب ستا محبت دے

تور مخونه به ولاړ وي په حساب د محشر ورځي

 په دنیا کښې تاسره چې کوم چا کړئے عداوت دے

في لاريب هغه څوک به د جهنم په لمبو سوزي

 کوم یو چا چې دلته تاته رسولي اذیت دے

که هر څومره توبه کار شي خپلو کړو باندې پښيمان شي ستا دښمن خو آخرت کښې هم محروم له شفاعت دے

د بابا جگر گوشه ی ته بتول ئ صديقه ئ

 تل د صبر شکر کړے په خپل ژوند کښې په غربت دے

ستا احسان چې فراموش کړي مسلمان به بې وفا وي

 دا اسلام چې نن قائم دے ستا د ذات په بدولت دے

ستا بابا روح الامین دے ستا خاوند امام مبین دے

اے بي بي خلد برین ستا د زامنو ملکیت دے

ستا د ذات په فضيلت خو گواهي د انما دے

لویه برخه ستا د ژوند خو په تقوي او تلاوت دے

بي ركوعه بې سجوده ستا په یاد کښې نمونځ ادا کړم

دستا ذکر ما د پاره لوئے ثواب د عبادت دے

حسنين چې په جهان کښې بې مثال او بې ثاني دي

ستا د مينې خاصیت دے ستا د غیږې تربیت دے

فاطمه چی اذيت كړي لکه ما چې اذيت کړي

زمانې نه د نبي د خولې تاکید او وصیت دے

د سائيل په جامه راشي جبرائیل هم د ستا درته

 د ستا څومره لویه برخه د ستا څومره شان اوچت دے

تاسره می ټول نسبت دی ته مرکزی ته محوری

 نبوت که ولایت دے که بې مثله امامت دے

په دانې دانې د ذكرئ مشغول واړه عالم دے

دا تسبیح په حقيقت کښې ائے بي بي د ستا سنت دے

که بابا د ستا قرآن دے پکښې ته سوره یٰسین ئ

اعتراف کښې ټول عالم د ترابده د عصمت دے

دین اسلام که نن موجود دے په سبب ستاد وجود دے

ستا گفتار او ستا کردار خو سرمایه د شریعت دے

تقدس او طهارت دې د قرآن کلام رڼا کښې

 ستا صورت په حقیقت کښې د پاکوالي علامت دے

گنهکاریم روسیاه يم زه روشن دې امیدواریم

د کرم نظر خواستگاریم ستا اختیار کښې شفاعت دے

دہ شاعر روشن علی بنگش یو څو شعرونه


جانانه ستا کوڅې نه صبرولے نه شم زړه 
په هیڅ صورت ئې زۀ ایسارولے نه شم زړه
 

په خوښه چې دې وړلو اوس ئې ولې غورځوې 
صفا به دې وئيل چې زه ساتلے نه شم زړه

چې بل دردمند د پاره پکښې نه لری څۀ درد 
هغه ته خو زه هیڅ کله وئیلے نه شم زړه

دروړم ئې په ګوګل کښې ښۀ صحيح او سلامت 
خو روغ ستا د محفل نه بهرته وړلے نه شم زړه

روشنه دا خپل زړه به زړۀ اونه کنم هرگز 
په غم نې د غمژن چې زورولے نه شم زړه

مورخہ 2011 شلوزان جنگ میں کوہ سفید پر عزاداری

 

مورخہ 2011 شلوزان جنگ میں  کوہ سفید پر عزاداری

عزاداری امام حسین ہماری شہ رگ ہے ہماری روح ہے۔ ہماری جان ہے۔ ہماری زندگی ہے ہماری بقا ہے اور ہمارا ایک متبرک ورثہ ہے۔ جو چودہ سو سال سے جاری و ساری ہے۔ اور تا قیامت جاری رہیگی۔ چودہ صدیوں سے بہت سی کوششیں ہوئیں کہ اس کو بند کرے۔ اور اس پر پابندی لگائے۔ لیکن عزاداران امام مظلوم نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ اپنے بچوں کی قربانی پیش کی۔ اُن کے ہاتھ پاؤں اور زبان کاٹے گئے۔ انکے گھر جلائے گئے۔ اور جائیدادیں لوٹ لی گئیں۔ لیکن عزاداری کو جاری رکھا۔ اب بھی حسین کے کروڑوں متوالے خواہ گرمی ہو یا سردی۔ بارش ہو یا ژالہ باری۔ گولیوں کی بوچھاڑ ہو یا خودکش دھماکوں کی افواہیں یہ عزاداری کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شلوزان تنگی کی سکوت کے بعد یزیدی دہشت گردوں نے محرم الحرام کی مجالس پر خفیہ ٹھکانوں سے مارٹر اور میزائیل پھینکنے شروع کئے۔ جن سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اور پانچویں محرم کو ایک مارٹر کے گولے سے ایک گھرانے کے تین معصوم بچوں کے نرم و نازک بدنوں کے ٹکڑے زمین پر بکھر گئے۔ اور انکے مظلوم خون سے زمین سُرخ ہوئی۔
محرم کی جلوسوں کی حفاظت کیلئے ڈھائی سونو جوانوں کا ایک دستہ تیار ہوا۔ اور پہاڑ کی بلند و بالا چوٹیوں پر چار رات شدید سردی میں گزار دیئے۔ اس حسینی دستے کے جوان بے قرار تھے۔ کہ کس طرح ظلم حسین کو منایا جائے۔ بعض اپنے ساتھ ٹائپ رکارڈر لے جا چکے تھے۔ چند جوان پہرہ دے رہے تھے جبکہ بہت سے نوجوان مرثیہ سُن کر زارو قطار روتے تھے۔ کئی جوانوں پر جنونی کیفیت طاری ہوئی اور ملنگی کرنے لگے۔ چند عقیدت مند جوانوں نے بغیر سحری کے خشک روٹی کے ساتھ روزے بھی رکھے۔
دسویں محرم کو پروگرام یہ بنایا گیا۔ کہ شلوزان کے مرکزی امام بارگاہ سے وائرلیس سیٹوں پر اُن کے ساتھ رابطہ کیا گیا۔ جوں ہی ادھر ذوالجناح کو برامد کیا گیا۔ پہاڑ کی چوٹیاں بھی یا حسین یا حسین کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ چند حسینی جوان اپنے ساتھ تیز دھار والے زنجیریں لے گئے تھے۔ خوب زنجیر زنی ہوئی۔ زنجیر زنوں اور بلیڈوں کے ساتھ سینہ کوبی کرنے والے جوانوں میں احباب حسین ، عصمت علی ، تنویر حسین اور ماجد حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔
کوہ سفید کا نام اب کوہ سفید نہ رہا۔ اب غم حسین میں بہنے والے خون سے سُرخ ہو گیا۔ یہی کاروائی روز اربعین پر بھی ہوئی۔ جب عزادار گھروں کو پہنچے خون میں اُنکے کپڑے لت پت تھے۔ لوگ حیرانگی سے پوچھتے کہ " کیا آپ کو گولی لگ گئی۔ وہ فخر سے بولتے۔ "ہم نے ذکر حسین کیا ہے۔ اور زنجیر زنی وسینہ کوبی کی ہے۔"
دُنیا والوں! ذرا حسین کے ان متوالوں کی عقیدت پر سوچ لو  نہ فسٹ ایڈ کا سامان ، نہ مرہم پٹی ، نہ گولی نہ انجکشن ، نہ مددگار اور نہ منع کرنے والے۔ شدید سردی میں اتنے خون کا اخراج اور پھر بھی زندہ اور پہلے کی طرح تیار۔ کیا یہ حسین کا معجزہ نہیں؟ یزیدیو پھر بھی آپ حسین کے منکر ہو۔ تو جہنم آپ کو مبارک خداوندا بحق حسین ہمارے ان جوانوں کو بحفاظت رکھے۔ آمین 
تم کو پیار یزید سے اور ہم کو اُنس حسین سے ہے
 دوزخ سے دو قریب ہے جو دورشہ دارین سے ہے

کربلائے پاراچنار جلد دوم
پروفیسر حاجی عابس حسین عابس 

ده شاعر روشن علی بنګش په زړه پورې شعرونه

 


کۀ سمه ژوبله ژوبله ده سپين غر په وینو سُور دے 
د زړۀ سره سره مي هم ځيګر په وینو سُور دے

د نور وجود ئې څۀ کوې تپوس د پرهرونو 
چې زړۀ د  پښتونخوا دے پیښور په وینو سُور دے

شاعر يمۀ د شوق سترګه په څه باندې خوړه کړم
 زما د سیمې هر ښکلے منظر په وینو سور دے

حالات راته راوړی پرله پسې چې ده غم زېری
د ژوند هر یو سحر او ماذیګر په وینو سور دے

چې زړونونه د مينې کډې لاړې نو دا ځکه                                  
 ګرېوان په وینو سور دے د چا سر په وینو سور دے              

                روشنه د مئينو پیغامونه ځکه نشته          
لمبې په چينار پورې دی ګودر په وینو سور دے

 

مورخہ 2010 جنگ میں خیواص کا پسِ منظر


  خیواص جلتا رہا 

خیواص شلوزان تنگی میں شمال مغربی حصے میں واقع خوبصورت ، پر امن اور ایک دلکش بستی تھی۔ جہاں باقرخیل بنگش قبیلہ سینکڑوں سال سے آباد تھا۔ تقریبا 150 گھرانوں پر مشتمل یہ خوبصورت گاؤں لذیذ میوؤں اور باغات کیلئے مشہور تھا۔ یہاں میوے اس وقت پک جاتے جب ایجنسی میں میوؤں کا خاتمہ ہو جاتا۔ یہاں کے اخروٹ ، خرمانی ، آلوچے اور سیب نہایت لذیذ اور دیدہ زیب تھے۔

یہاں کے باشندے نہایت غریب اور سیدھے سادہ تھے۔ جلانے کی لکڑی کی فروخت اور ملیشیا میں ملازمت پر گزارہ کرتے تھے۔ یہاں بہت سے افراد زیر تعلیم سے آراستہ ہوئے تھے۔ اور سکولوں میں معلمین کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ خیواص چاروں طرف سے منگل قبیلے کی آبادی میں گھرا ہوا تھا۔ لیکن از قدیم الایام ان کے منگلوں سے اچھے تعلقات تھے۔ جب بھی شلوزان اور منگلوں کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوتا تو خیواص کے مشران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ، اور معاملے کوحل کر دیتے۔ 2007 ء یا نومبر 2008 ء کے فسادات میں یہ علاقہ اپنے بہتر تعلقات کی وجہ سے محفوظ رہا۔ لیکن یہاں کے غریب ، غیرتمند اور بہادر جوان دشمن کے مقابلے کیلئے ہمہ تن تیار تھے۔ خیواص کو کیوں جلایا گیا ؟ اور کیسے جلایا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ میں تو یہ لکھتے کوئی خوف محسوس نہیں کرونگا کہ یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ طالبانائزیشن کی ایجنسی میں گرفت مضبوط کی۔ تو شلوزان تنگی اور پیواڑ تنگی ان کے بڑے مرکز رہے۔ ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی خیواص تھا۔ جو ان کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹک رہا تھا۔ اسی غرض سے کرم ایجنسی کے ایک اعلیٰ افسر نے شلوزان تنگی کا دورہ کرکے وہاں شب باش بھی ہوئے۔ اور حالات کا خود جائزہ لیا۔ اس واقعے کے کچھ سیاسی مقاصد بھی تھے۔ جو مختلف ممالک کے اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ نیٹ میں اور کربلائے پاراچنار کتاب میں موجود ہے میں اسکو یہاں اس لئے نہیں لکھوں گا پھر بہت لمبا ہو جائے گا۔ اگر کوئی اس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو کربلائے پاراچنار کتاب پڑھ لیں۔

سینکڑوں سال بعد خیواص جو امن کا گہوارہ تھا۔ اور جہاں کے غریب باشندے امن کی زندگی گزار رہے تھے کے حالات اچانک کیوں خراب ہوئے۔ اسکی بڑی وجہ طالبان کا یہ علاقہ جو انکے لئے رکاوٹ تھا۔ درمیان سے نکالنا تھا۔ اور اسکو اپنا مرکز بنانا تھا۔ انہوں نے خیواص کو درمیان سے نکالنے کیلئے مقامی منگلوں کے ساتھ مذکرات کئے۔ انکوفورس اور اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدے کئے۔ خیواص کے مظلوم عوام نے جلد محسوس کیا۔ کہ حالات کارخ تبدیلی اختیار کر رہا ہے۔ وہ چوکنے ہوئے اور اپنے علاقے کی حفاظت کیلئے کمر بستہ تیار ہوئے۔ ہوا یوں کہ منگلوں نے مورخہ 4 ستمبر 2010ء کو اچانک خیواص کے دو گھرانوں جو خیواص سے چند کلومیٹر جنوب کی طرف اسماعیل میلہ کے قریب رہتے تھے ان پر اچانک حملہ کر دیا۔ گھروں کے مالک صوبیدار جان حسین اور صوبیدار ہدایت حسین کے ان سے اچھے تعلقات تھے۔ بلکہ قرآن پر قسم کھا کر انکے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن منگلوں نے نہ قرآن کی پروا کی اور نہ معاہدے کی۔ دونوں گھرانوں پر بھاری ہتھیار آر آر میزائیل وغیرہ سے یلغار کی۔ مکانات کی چھتیں بیٹھ گئیں ان میں آگ لگ گئی گلاب حسین اور جان حسین کا بیٹا امین حسین شہید اور صوبیدار جان حسین شدید زخمی ہوئے۔ لیاقت حسین جو ان کی حفاظت کیلئے شلوزان سے گئے تھے اور ان کے رشتہ دار تھے بھی شہید ہوئے۔ تین دن بعد اسکی لاش نکالی گئی۔ لیاقت حسین ایک تعلیم یافتہ جوان تھے۔ بڑے بہادر ، دلیر اور باہمت انسان تھے۔ مذہبی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ شہادت اس کا نصب العین تھا۔ اور آخر بہادری اور دلیری سے رائفل چلاتے ہوئے آخری گولی تک دشمنوں کے عزائم کو نا کام بنانے کیلئے لڑتے رہے۔ آخر وہ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے اور جاودان زندگی حاصل کی۔ یزیدیوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ وہ وحشی درندوں کی طرح حملے کرتے رہے۔ اور آخر کار مظلوم اور مجبور خیواصیوں کو نشانہ بنایا۔ ان پر بھر پور طاقت کے ساتھ حملہ کیا۔ بہادر حسینیؑ لشکر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا تھا۔ لیکن مخالف سمت سے ایک منٹ میں ایک ہزار مارٹر لانچرز اور آر آر کے گولے گرتے تھے۔ اور خیواص ہولناک منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ہر طرف شہداء کی لاشیں پڑی تھیں۔ اور جو زندہ تھے وہ برابر مشینیں چلا رہے تھے۔ لیکن دشمن کی تعداد اور گرتے ہوئے گولے ان سے ہزار گناہ زیادہ تھے۔ وہ آخری دم تک لڑے اور پیچھے ہٹنے کا نام نہ لیا۔ حتیٰ کہ سب ابدی نیند سو گئے۔ یزیدی لشکر پورے زور اور قوت کے ساتھ خیواص میں داخل ہوا۔ اور کربلا کے یزیدیوں کی یاد تازہ کر دی۔ لیکن کربلا والوں کے نقوش قدم پر گامزن حسینیؑ اب سوئے ہوئے تھے۔بقول شاعر

مل رہے ہیں کربلا والوں سے یہ دونوں سبق کیا

کیا بچانا چاہیئے اور کیا لٹانا چاہیئے

وقت شہادت تک خط کربلا پر چلنے والے حسینیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انکے دل اسوہ وقت شہادت تک خط کر بلا پر چلنے والے حسینیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ انکے دل اسوہ حسینی سے منور تھے اور ان کے افکار نے کربلا سے فیضان حاصل کیا تھا۔ لیکن ان کی مظلوم لاشوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا۔ جو کربلا کے میدان میں حسینؑ کے مظلوم ساتھیوں سے کیا گیا تھا۔ وہاں ان کی لاشیں پائمال ہوئی تھیں۔ تو کربلائے خیواص کی لاشوں کو بری طرح مسخ کیا گیا۔ تیز دھار کلہاڑیوں اور چھریوں سے ان کو ٹکڑے ٹکڑےکردیا۔ اور بے گور و کفن لاشوں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور ان پر بڑے بڑے پتھر ڈال دیئے۔ یزیدی لشکر جب خیواص میں داخل ہوا۔ تو پہلے امام بارگاہ کو آگ لگادی۔ علم عباسؑ کو آگ لگا دی اور گہوارہ علی اصغرؑ کو جلا دیا۔ یادگار کربلا سب راکھ میں تبدیل ہوئے اور ظالم دہشت گرد چلتے کودتے اور چلاتے رہے۔ شلوزان تنگی کی فتح کے دوران ہمارے مجاہدوں کو سی ڈیز ملے۔ ان میں ایک خیواص کے جلانے کی سی ڈی بھی تھی۔ جسے سب نے دیکھ لیا۔ اسی سی ڈی کے مطابق جب وہ خیواص میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ایک شمر ذی الجوشن کا بیٹا زور زور سے چلاتا ہے۔ فلاں کیا یہ خیواص ہے؟ یہی خیوص ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں یہ خیواص ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لگاؤ آگ امام باڑے کو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظر دیا۔ اور بے گور و کفن لاشوں کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا گیا۔ اور ان پر بڑے بڑے پھر ڈال دیئے ۔ یزیدی لشکر جب خبوص میں داخل ہوا۔ تو پہلے امام بارگاہ کو آگ لگادی۔ علم جہان کو آگ لگا دی اور گہوار وعلی اصغر کو جلا دیا۔ یادگار کر با اسب راکھ میں تبدیل ہوئے اور ظالم دہشت گرد چلتے کودتے اور چلاتے رہے۔ شلوزان جنگی کی فتح کے دوران ہمارے مجاہدوں کو سی ڈیز ملے۔ ان میں ایک خیوص کے جلانے کی ڈی بھی تھی ۔ جسے سب نے دیکھ لیا۔ اسی سی ڈی کے مطابق جب وہ فیوس میں داخل ہوتے ہیں۔ تو ایک شمر ذی الجوشن کا بیٹاز ورزور سے چلاتا ہے۔ فلاں کیا یہ خیوص ہے؟ یہی خیوص ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں یہ خیوس ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ لگاؤ آگ امام باڑے کو وغیرہ وغیرہ۔ یہ مناظر حسین کے مانے والوں کے لئے نہ دیکھنے کے قابل ہیں۔ اور نہ ان سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا صرف ایک دن انکے تقریباً تین سو گھرانوں سے آگ کے شعلے بلند ہوئے۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے پونے چار گھنٹوں میں تقریباً پندرہ دیہات صفہ ہستی مٹ گئےحسینی" جانباز خیواص میں داخل ہوئے اور ٹکڑےٹکڑے لاشوں کو نکال کر پاراچنار لے کے  آئے۔



     کربلائے پاراچنار     

پروفیسر حاجی عابس حسین عابس 

مورخہ 2010 سے 2012 تک پیواڑ کا پسِ منظر

مورخہ 2010 سے 2012 تک  پیواڑ کا پسِ منظر         
 
  !کربلائے پیواڑ  

پیواڑ کرم ایجنسی کے شمال مغرب میں افغانستان کے بارڈر   کے نزدیک واقع ایک گنجان آباد بستی ہے۔ اسکے تینوں بلکہ چاروں طرف منگل ، خروٹی اور زدران قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ اور ان کی آبادی بھی پیواڑ کے شمال میں اُونچے پہاڑوں پر ہے۔ اور پیواڑ ہر وقت اُن کے نزغے میں رہتا ہے۔ شلوزان کی طرح یہ قبیلے بھی علی زئی غنڈیخیل قبیلوں کے ابا و اجداد نے جنگلوں اور سرحدوں کی حفاظت کی خاطر آباد کئے تھے۔ اور وہ بطور ہمسایہ آباد ہوئے تھے۔ جس کا تفصیل سے ذکر گزیٹر میں ہوچکا ہے۔ گزیٹر میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ منگل قبیلے کے لوگوں کو مالکوں سے اجازت لئے بغیر جلانے کی لکڑی بھی کاٹنے کی اجازت نہیں تھی۔ اور نہ اُن کو انکے جرگے میں بیٹھنے کا حق حاصل تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگ بھی دست اندازی کرتے کرتے جنگل کے مالک بن گئے۔ اور جنگل کو بے دردی سے کاٹ کر کروڑوں روپے کمالئے۔ اور اپنے مالکوں کی سرکوبی کیلئے اسلحہ خریدنا شروع کیا۔ اب جب قبائیلی علاقہ جات میں طالبانائیزیشن نے زور پکڑا تو یہ علاقہ اُن کا خاص مرکز رہا۔ میرمئے  نرئے اور تری منگل طالبان کے خاص مرکز رہے۔ اُن کو قبائیلی علاقہ جات اور افغانستان سے بے پناہ اسلحہ اور ایمونیشن ملا وہ پیواڑ کو مستقل طور پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتے رہے۔ اور مظلوم پیواڑیوں کو تنگ کرنا شروع کیا۔ شلوزان کی طرح اُن کی ندیوں کے بند کاٹ دئے۔ اور واٹر سپلائی سکیم کو منقطع کیا۔ روز روز بہانے ڈھونڈتے رہے۔ اور پیواڑ پر چاروں اطراف سے دوشکہ ، زیڑکئے ، مارٹر ، میزائیل اور آر آر وغیرہ ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ اور حکومت سے ناجائز مطالبات شروع کئے۔ پیواڑ کے بہادر اور حوصلہ مند عوام نے پھر بھی امن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور حکومت سے رجوع کیا۔ لیکن حکومت طفل تسلی سے کام لیتی رہی۔ انکے مخالفوں کو کبھی بھی ناراض نہیں کیا۔ بلکہ اُنکہ مطالبات پورے کئے۔

منگلوں کیلئے دو پکے سڑکیں پہلے سے موجود تھے۔ لیکن اب وہ بھیٹر اور بھیڑیا کا کام کر کے بہانے ڈھونڈتے تھے۔ اور ایک تیسری سڑک کا مطالبہ کرنے لگے۔ جو کہ پیواڑ والوں کیلئے ایک چیلنج تھا۔ پیواڑ میں غیرتی اور بہادر جوان موجود تھے۔ اُن میں کیپٹن علی اکبر جیسے نڈر اور پر عزم شحصیت بھی تھے۔ ڈاکٹر ریاض حسین جیسے بیدار معزز سیاستدان بھی موجود تھے۔ اُن میں ظاہر حسین شہید جیسے بہادر ، دلیر اور مستقل مزاج حسینؑی سپاہی بھی تھے۔ پیواڑ کا بچہ بچہ علمدارؑ کربلا جناب علی اکبؑر اور عونؑ و محمدؑ کے دستے کا سپاہی تھا۔ انکے بوڑھے بھی حبیبؑ و مسلمؑ کے سچے پیروکار تھے۔ انہوں نے ایک نیا کربلا سجانے کا عزم کیا تھا۔ وہ چار سال مسلسل اکیلے لڑتے رہے۔ وہ حسینؑ کا نام لے کر دشمن سے نبرداز ما ہوئے۔ اور انہیں عبرتناک شکست دی۔ شاعر فرماتا ہے۔

آئی کبھی جو مجھ کومنانے کے واسطے

 تیرے ہی نام سے وہ مصیبت ٹلی حسینؑ

ہاں کربلائے پیواڑ میں بھی ایک سو سے زائد حسینیؑ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ سینکڑوں گھرانوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ کئی معصوم بچے یتیم ہوئے۔ سینکڑوں ماؤں کی گودیں خالی ہوئیں۔ کئی گھروں کے چولہے بجھ گئے۔ کئی جوانوں نے کربلا کے کڑیل جوان علی اکبرؑ کی راہ لی کئی نئے نویلے دلہے سہاگ لٹا کر عروس کو تنہا چھوڑ گئے۔ اور کئی سفید ریش بوڑھے حبیبؑ و مسلمؑ سے جاملے۔ پردہ دار خواتین نے بھی اپنے خون سے پیواڑ کی تاریخ رقم کی۔ مگر حکومت خاموش تماشائی بیٹھی رہی۔ انکو کیا معلوم کہ شہیدوں کے گھروں اور زخمیوں پر کیا گزر رہی ہے۔ اس کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ صرف وہی جانتے ہیں جن پر یہ قیامت گزری ہے۔ لیکن اُنکے حوصلے بلند ہیں۔ وہ موت سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

وہ جو پڑھتے ہیں جو ان موت کو گلے لگنے

انکے اس عزم سے روشن ہوئے اطراف جہان

اس طرف آتش وآہن کی جو برسات ہوئی

وہ نہ جھکتے نہ جھجکتے ہیں سوئے مرگ روان

پیواڑ کے دلیر عوام نے دنیا پر ثابت کر کے دکھایا۔ کہ حسینؑ کے ماننے والے اگر تعداد میں کم بھی ہوں وہ دشمن سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ وہ حسینیؑ فوج کے سپاہیوں کی طرح یزیدی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ اور شکست کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ وہ پیام حسینؑ پر کار بند ہیں۔ اور حسینیؑ مشن کو آگے بڑھانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ ایک ہندو شاعر منشی گوپی ناتھ امن نے کیا خوب کہا ہے۔

رکھونہ راہ حق میں کبھی جان وتن عزیز

  اے مومنو سنو یہ پیام حسینؑ ہے

   جو تنک ظرف ہیں وہ لگائیں نہ اسکو ہاتھ 

   مستِ الست کیلئے جام حسینؑ ہے

   کا فر کہے تو کہے کوئی امن کو مگر

    اُسکے دل و جگر میں قیام حسینؑ ہے

اس جنگ میں پیواڑ کے مفلس اور غریب عوام کو ناقابل تلافی نقصانات ہوئے۔ چار سال تک پانی کی بندش کی وجہ سے انکی ہزاروں ایکڑ ذرخیز زمین نا قابل کاشت ہوکر اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ ناقص پانی کی وجہ سے سینکڑوں افراد ٹائیفائیڈ ، ایچ سی وی اور دیگر مہلک بیماریوں کے شکار ہوئے۔ کئی معصوم بچے دست ، قے اور ٹائیفائیڈ کا شکار ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے مہلک ہتھیاروں سے سینکڑوں مکانات کھنڈرات میں تبدیل ہوئے۔ اور مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے اُنکے اربوں روپے کا ایمونیشن ضائع ہوا۔ ان نقصانات کا ذمہ دار کون؟ ان نقصانات کا ازالہ کون کریگا؟ کیا جرگہ ان باتوں کو مدنظر رکھے گا ؟ اُنکا کروڑوں روپے کا جنگل تباہ ہوا۔ کیا حکومت اسکا معاوضہ وصول کریگا؟ یا مجرموں کو سزا دیگا؟ مجھے کوئی امید نہیں کہ ایک بات پر بھی غور ہو سکے۔ پشتو کے مقولے "تیر ھیر “۔ جو گزر گیا وہ بھول گیا پر عمل ضرور ہوگا۔ اور ایک بار پھر ظلم اور تشدد کا نشانہ بن جائیگا۔ لیکن پیواڑ کے عظیم فرزند ان سب حالات کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اُن کے عزم و استقامت میں ذرہ بھر لغزش کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے اپنی مٹی کی حاطر قربانیاں دی ہیں اور خون کی سرخی سے تاریخ رقم کی ہے۔ او تا قیامت یہ تاریخ دھرائی جائیگی۔

!بقول شاعر

 جن چراغوں کو شہیدوں نے دیا اپنا لہو

اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی

:قطعہ

ان چراغوں کو بجھا سکتی نہیں ہیں اندھیاں 

  ہو جسکے جوانوں کی خودی صورت فولاد



مورخہ 2011 میں شلوزان مجلس عزداری پر ماٹر اور میزائل کے گولے اور کوہ سفید کا تفصیل


                       شلوزان ، مجلس عزاداری پر مارٹر کے گولے

               مورخہ 12/12/2011 آج محرم کی پانچویں تاریخ تھی۔ شلوزان میں مجالس دو بجے سے شروع ہوتے ہیں۔ مولانا حسین الاصغر صاحب تقریر کر رہے تھے۔ کہ یزیدیوں کی طرف سے مارٹر کے گولے گرنے شروع ہو گئے۔ ایک گھر کے تین کم سن بچے خیال حسین ، مہدی حسین ، اور شباب حسین شہید اور اصغر حسین عرف بھٹو سمیت تین افراد شدید زخمی ہوئے۔ جنکو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پھول جیسے خوبصورت بچے سینہ کوبی کرتے ہوئے امام باڑہ کیطرف روان تھے۔ کہ ظالموں نے ان نازک کلیوں کو کھلنے نہیں دیا۔ اور انکے نازک اعضاء کے ٹکڑے زمین پر بکھیر دئیے۔ وقفے وقفے سے گولے گرتے رہے کل چودہ گولے گرائے گئے۔ جن میں زیادہ گولے زنانہ امام بارگاہ کے نزدیک گرے۔ عزاداری امام حسین کو جاری رکھا گیا۔ اور امام باڑہ نعرہ حیدری اور حسینیت زندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ مولانا صاحب نے اسی مناسبت سے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا۔ کہ بنی اُومیہ اور بنی عباس کے دور میں لوگوں کے ہاتھ ، پاؤں اور زبان کاٹے گئے۔ لیکن زیارت امام حسین اور عزاداری بند نہیں ہوئی۔ چودہ سو سال سے یہ سلسلہ جاری رہا۔ اور تا قیامت جاری رہیگا۔ ذاکرین حسین منتظر حسین اور سیلاب حسین نے بھی اسی مناسبت سے نظم سنائی۔ جو انکی شیرین زبانی اور بچوں کی اندوہناک شہادت کی وجہ سے نہایت پر اثر رہی۔ نوجوانان دسته جناب علی اکبر فورا مسلح ہو کر پہاڑ کی بلند چوٹیوں پر پہنچے۔ اور جوابی کاروائی کر کے یزیدیوں کو دور بھگایا۔ 5 بجے ملیشیا کی طرف سے توپ کے گولے داغے گئے۔ لیکن وہ بھی ہمارے مورچوں کے نزدیک گرے۔

مورخہ 13/12/2011 آج شلوزان اور پیواڑ کے علاقوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کیں۔ یہ انتظام پی اے کرم نے محرم الحرام کیلئے کیا تھا۔ آج شلوزان کے مشران پی اے کرم سے ملے اُسے بتایا گیا۔ کہ ہیلی کا پٹر ٹل میں بیٹھتے ہیں۔ حادثے کی صورت میں جب وہ ٹل سے پرواز کر کے شلوزان پہنچتے ہیں۔ تو اسمیں کم از کم نصف گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ اور شر پسند بھاگنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بہتر ہوگا۔ کہ وہ پارا چنار میں رہیں۔ اور دہشت گردی کے خلاف فوری کاروائی کریں۔ پی اے نے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا۔ کم سن شہداء کو چالیس چالیس ہزار روپے فی کس اور زخمیوں کو بیسں ہزار روپے فی کس دینے کا وعدہ بھی کیا۔ جو سیکرٹری انجمن کی ذریعے دیئے گئے۔ 

شلوزان میں چھاپہ مارحملوں (مارٹروں اور میزائل حملوں ) سے نمٹنے کیلئے لقمان خیل سے خیواص کی سرحدات تک تقریبا دو ہزار نو جوان بلند ترین چوٹیوں پر متعین کے گئے۔ جو شدید ترین سردی میں چار دنوں سے وہاں کمر بستہ تیار کھڑے تھے۔ امام بارگا ہوں میں حسب معمول مجالس عزا بر پا ہوتے رہے۔ جلوس شب عاشورا اور ذوالجناح روانی جوش و خروش کے ساتھ بخیریت اختتام پذیر ہوئے۔

مورخہ 17/12/2011 روز عاشورا تمام کرم ایجنسی خصوصاً پارا چنار ، شلوزان اور پیواڑ میں سابقہ روایات کے تحت عزت و احترام سے منایا گیا۔ پاراچنار میں علمدار فیڈریشن اور پاسداران حسین نے شب وروز ایک کر کے ڈیوٹی دی۔ انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی یوسف حسین م اراکین انجمن ، حاجی حامد حسین صدر فیڈ ریشن حاجی رووف حسین ، حاجی اسحٰق حسین اور ارباب حسین بھی 24 گھنٹے ڈیوٹی سر انجام دیتے رہے۔

                    کوه سفید کی بلند چوٹیوں پر عزاداری و زنجیر زنی 


شلوزان میں تقریباً دو ہزار نوجوانوں نے بلند ترین چوٹیوں پر پانچ رات گزارے اور یزیدیوں کے ارادے خاک میں ملادیئے۔ انہوں نے یزیدیوں سے دست بدست جنگ کی۔ اور انکو در و بھگایا۔ اُن میں سے ایک ہلاک یا زخمی بھی ہوا۔ جسے اُٹھا کر وہ بھگا لے گئے۔ بعض عقیدت مندوں نے بغیر سحری و افطار کے خشک روٹی اور چنوں کے ساتھ روزے بھی رکھے۔ اور غیرت مند حسینی جوانوں نے عزاداری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے بلند و بالا چوٹیوں پر زنجیر زنی کی اور فسٹ ایڈ ، مرہم پٹی اور گولیوں کے بغیر خون میں لت پت گھر آئے۔

                                          کربلائے پاراچنار جلد دوم 

                           پروفیسر حاجی عابس حسین عابس بنگش